AnayatUllah057


 
 

To Download PDF click the link below

 

  انبیاء اکرام کے الہا می، آسمانی،نورانی دینی ضابطہ حیات پر فرعون اور یزیدکے جمہوریت کے نظام اور سسٹم کے قوانین کی بالا دستی۔۔۔۔انسانیت کا المیہ
عنایت اللہ
۱۔ جمہوریت او ر شورائی نظام حکومت میں فرق اتنا سا ہے۔جمہوریت کے ذریعہ گلی،محلہ،گاؤں،یونین کونسل،تحصیل اور ضلع کی سطح پرلوگ اپنا نام الیکشن میں حصہ لینے کے لئے پیش کرتے ہیں۔ الیکشنوں میںجو لوگ مالی استطاعت رکھتے ہیں وہ ان میں حصہ لیتے ہیں۔جن افراد کی مالی حالت بہتر ہوگی۔جو لوگ الیکشن مہم چلا نے کیلئے جتنے زیادہ اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہوں گے‘ اتنا ہی میڈیا پر کنٹرول اور اتنا زیاد ہ پبلسٹی، معیثت اور دوسرے ذرائع ابلاغ سے اپنی پوز یشن بہتر اور مضبوط بنا تے جائیں گے۔وہ دولت کی طاقت سے اپنی کامیابی کی منزل کی طرف قدم بہ قدم بڑھتے جائیں گے۔ جتنی ان کی انفرادی قوت زیادہ ہو تی جائے گی ۔ وہ جلسے جلوسوں کے ذریعہ لوگوں کو یہ باور کروانے میں کامیا ب ہو تے جائیں گے۔ کہ وہ دوسروں کی نسبت ایک، عمدہ،بہترین اور اعلیٰ اہلیت کے مالک اور بہترین صلاحیتوں پر مشتمل اوصاف کے مالک اور ایک موزوں علاقہ کے قائد ہیں۔اس طرح ان کو دولت کی طاقت سے معاشر ہ میں ایک منفرد مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ یوں وہ معاشی اور معاشرتی برتری کی بنا پر دوسرے بالمقابل الیکشن میں حصہ لینے والے دوسرے ممبران پر سبقت لے جا تے ہیں۔
۲۔ ابن الوقت معا شی برتری والے سیاستدان عوام الناس کو گمراہ کرنے کیلئے طرح طرح کے نعرے بازی اور سبز باغ دکھا کر سادہ لوح عوام سے ووٹ حاصل کر کے الیکشن جیتنے میں کامیا ب ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ جمہوریت کے الیکشنوں میں اہلیت وصلا حیت، امانت و دیا نت ، نیک و بد جیسی اعلیٰ صلاحیتوں کے فرق کو ختم کر دیا جاتا ہے ۔ با وقار‘ نیک دل‘ امین رہبر اور بے ضمیر رہزن کی شناخت ختم کرنا اس جمہوریت کے نظام کی بنیادی کڑی ہے۔پڑھے لکھے،دانشور اور جاہل کے ووٹ کا وزن برابر ہوتا ہے۔ ووٹوں کو گنا جاتا ہے۔امانت و دیانت،عدل و انصاف ، اعتدال مساوات کے شاہکاروں کو مات اور سرمایہ داروں اور جاگیرد ا روں کی کامیابی کے بگل بجتے رہتے ہیں۔ اس طرح آمری اور فرعونی طبقہ نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح کے سرما یہ دار اور جاگیر دار طبقہ پر مشتمل افراد ملک کی سیاست ، ملک کی معاشیات، ملک کی انتظامیہ،ملک کی عدلیہ ،ملک کے وسائل، ملک کے ا قتدار کو اپنی گرفت اور شکنجے میںلے لیتے ہیں۔اس طرح ملک کایہ فرعونی یز ید ی طبقہ فرعونی یزیدی جمہوریت کا سیاسی کھیل مادی وسائل اور دولت کے بلبوتے پر نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک اقتدار کے حصول کی جنگ جیت جاتاہے۔
۳۔ پھر یہ جمہوریت کا الیکشن جیتی ہو ئی آمری اور فرعونی قوتیں دینی، روحا نی اور آسمانی اقدار ، اس کے نظریات، اس کا ضابطہ حیات اور دستور مقدس کی تعلیمات،اس کے تعلیمی ادارے، اس کا تعلیمی نصاب ، اس کا نظام،اس کا سسٹم سرکاری طور پر ،ملکی سطح اور حکومتی سطح پر مسترد اور منسوخ کر کے ملت کی نسلوں کو آمری اور فرعونی جمہو ر یت کے ضابطہ حیات کے نظام اور سسٹم کی چتا میں جھونک دیتا ہے۔
۴۔ جمہو ریت دنیا کا ایک ایسا رائج ا لوقت نظام حکومت ہے۔جس کے اصول و ضوابط ، اس کے قوا نین،اس کا طرز حیا ت،اس کا تعلیمی نصاب،اس کے تعلیمی ادارے، اس کا نظام ،اس کا سسٹم اور اس کے فرعونی یزیدی نظریات کی انفرادی اور اجتما عی تعلیم و تربیت ملک میں جاری ہو جاتی ہے ۔ اس طرح موسیٰ علیہ اسلام،عیسیٰ علیہ اسلام اور محمدا لرسو ل اللہ ﷺ کی پیاری امتوں کی نسلو ں کو ان کے مذاہب کی روحانی نظریاتی تعلیمی روشنیوں سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ان کا دینی اور فرضی نام موسیٰ خان،عیسیٰ خان اور محمد دین پکارا جاتا ہے ۔ ان کا فرضی مذہب یہودی ، عیسا ئی اور اسلام ہی کہلاتا ہے۔ جمہوریت کی لغت میں ان کااصل نام مادہ پرست۔ان کا دین حصول اقتدار اور ان کی نسل فرعونیت کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔وہ مذاہب کی تعلیمات ،وہ مذاہب کی قیادت اور اللہ تعالیٰ کی حا کمیت کی بجائے فرعونی یزید ی نظریات کی تعلیمات، اس کے نظریات کو چلانے والی قیادت اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے خلاف فرعونیت اور یزیدیت کی حاکمیت قائم کر لیتے ہیں۔پاکستان کے حاکموں کی داستاں بھی ان سے مختلف نہیں۔
۵۔ جب وہ ملکی سطح پر اقتدار کی کرسی تسخیر کر لیتے ہیں۔اس پر قابض ہو جا تے ہیں تو یہ جمہوریت کے داعی اسلام نافذکرنے کی بجائے اسلام کی روح کو کینسر بن کر چمٹ جاتے ہیں۔ پھر یہ منافق جدید اسلام اور آفاقی اسلام کی اصطلا حیں استعمال کر کے ملت اسلا میہ کی نسلوں کو فرعونیت کی تیار کردہ تعلیمی بھٹی میں ڈال دیتے ہیں۔فرعونیت کے ضابطہ حیات پر مشتمل جمہوریت کا تعلیمی نصاب ، اس کا علم،عمل اور اس کے کردار کی تشکیل کا کام ملکی سطح پر جاری کر دیا جاتا ہے۔اس کے تعلیمی ادارے جمہوریت کی حکومتی مشینری کی انتظامیہ، عدلیہ اور سیاستدانوں اور دانشوروں کی افواج تیارکرنا شروع کر دیتے ہیں۔حکمران ملک کا نظام چلا نے کے لئے انتظامیہ اور عدلیہ کی نگرانی میں جمہور یت کے مذہب کو پروا ن چڑھا تے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملکی سطح پر مذہبی نظریات کو معبد،کلیسا اور مسجد کے پنجر و ں میں مقید کر دیا جاتا ہے۔یہ نظام حکومت مغرب کے سیاسی دانشوروں کے نظریا ت اور ان کی اسمبلیوں کے سکالر ممبران کے رسولوں کا تیار کردہ طرز حیات ہے۔جو دینی روحانی نظریات اور اقدار کو نگلتا جارہاہے۔مذاہب پرست دینی ،روحانی، دنیاوی ،اخلاقی اور ازدواجی ضابطہ حیات کو مسخ کرنے کے مرتکب حکمرانوں کو عوام اور مذ ہبی پیشوا روکنے سے بے بس ہو جاتے ہیں۔یہ جمہوری اور یزیدی نظام اس وقت پوری دنیا میں رائج ہو چکا ہے۔
۶۔ جمہوریت کے برعکس اسلام نے بھی ایک الہامی ،روحانی اور آسمانی نظریات پر مشتمل طرز حیات اور طرزحکومت پوری انسانیت کو دستور مقدس کی شکل میں عطا کر رکھا ہے۔مسلم امہ اسکو شورائی جمہوری طرزحکومت کا نام دیتی ہے۔ وہ شورائی طرز حکومت کے نمائندگان کا چناؤ الیکشن کے ذریعہ نہیں بلکہ سلیکشن کے ذریعہ دین کی روشنی کی حدود اور دستور مقدس کی تعلیمات کے مطابق معرض وجود میں لا تے ہیں۔ اس شورائی نظام سے جو قیادت ملک و ملت کو نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح پر نصیب ہوتی ہے۔ وہ جمہوریت کی طرح دولت کے انبار کی طاقت سے الیکشن کے ذریعہ وجود میں نہیں آتی ۔ بلکہ دین کے نظریات کی روشنی میں اعلیٰ دینی اقدار اور دینی اخلاق پر مشتمل نمائندگان کی سلیکشن ہو تی ہے۔ جو اہل محلہ، گاؤں، یونین کونسل،تحصیل اور ضلعی سطح پر عوام الناس میں سے جس کی دینی اہلیت اور عمدہ صلا حیت ، امانت و دیا نت ، اعتدال و مساوات،عدل و انصاف اور اسوہ حسنہ ﷺ کے قریب ترین ہو۔ ان جیسی طیب فطرت کا وارث ہو۔جو مخلوق خدا کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو ۔ اس طریقہ کار سے جن ممبرا ن کی سلیکشن ہوتی ہے۔وہ اطاعت رسول ﷺ کے نظریات پر مشتمل دستور مقدس کے پیروکار ہو تے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی حا کمیت کو قائم کرتے ہیں۔ اس کے منشور کی اطاعت من و عن خود بھی کرتے ہیں اور پوری امت کو بھی اس کی پیروی کروانا ان کا بنیادی طیب فریضہ ہوتا ہے۔ ملک میں تعلیمی نصاب، تعلیمی ادارے اسلامی نظریا ت کی روشنی میں ملت کے فرزندان کی تعلیم و تربیت کا عمل جاری کرتے ہیں۔جس سے اسلامی ما حول، اسلامی کردار،اسلامی نظریات اوراسلامی تشخص اور اسلامی قائد اور اسلامی قیادت کے روشن امکان خود بخود ابھرنے شروع ہوجاتے ہیں۔
۷۔ اس آئین کے سائے تلے ملت بیضا،وفا شعاری ،محبت خیزی،اعتدال پسندی، ادب سازی،اخوت و خدمت کی بیداری،عدل و انصاف کی پرستاری، ہمت ومحنت کی خوگری،اخلاق و کردار کی معماری،غور و فکر کی غمازی،خوف خدا کی زرہ سازی،اسوہ حسنہ ﷺکی رکھوالی کرنے والوں کی مہذب تہذیب کی عما ر ت تیار ہو نا شروع ہو جا تی ہے۔ازلی ابدی امانت و دیانت،اخوت و محبت، اعتدا ل و مساوات،عزت و احترام،عدل و انصاف اور جرات و شجاعت کے ضوابط کے سنگ و خشت سے بنیادیں تعمیر ہوتی چلی جاتی ہیں۔۔اس میں دستور مقدس کے پاکیزہ نصب العین اور اس کی اطا عت کی ذ مہ داری ادا ہوتی۔دلوں کے ایوانو ں میں حضور نبی کریم ﷺ کے شمع رشد و ہدایت کے علمی،عملی اور کرداری چراغ کائنات میں روشن ہوتے چلے جا تے ہیں۔گرم گفتاری بھی ۔لطف تکلم بھی۔ اخلا ق و کردار کی آبیاری بھی۔درس قرآن کی خوشبو انسانی قلوب کومعطر بھی کرتی چلی جاتی ہے۔حاکم وقت اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے ضابطہ حیات کو تسلیم کرتے۔خود بھی اس کی اطاعت کرتے۔اس کے بعد مسلم امہ اور تمام رعیت کو اس کی اطاعت کا پابند بنا تے ۔عدل و انصاف،اعتدال و مساوات اور امانت و دیانت اور متاع ارضی کی تقسیم اور انسانی زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے حصول میں ہر کس و ناکس کو ایک جیسا تحفظ ایک جیسی مراعات فراہم کرتے۔دنیا امن کا گہوارہ اور خیر و برکت کی آماجگاہ بنتی چلی جاتی ہے۔
۸۔ انگریزوں کے بعد جب سے ملت بیضا کی رہنمائی اور رہبری اور حکمرانی ان فرعون اور یزید پرست بے دین ہلاکو اور چنگیزوں پر مشتمل جمہوریت کے سود ا ئی حکمرانو ں کی گرفت میں آئی ۔تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار ا ور حضور نبی کریم ﷺ کے دستور مقدس ، ان کے نظریات اور ان کی تعلیمات کو سرکا ر ی طور پر نافذ ا لعمل کرنے سے انحراف اور مسترد کر دیا ہوا ہے۔جمہوریت کا فرعونی نظام اور اس کے مادیت کے بے ربط،بے ضبط فرعونی ضابطہ حیات،اس کے نظریات کی بالادستی سرکاری سطح پر ملک میں نافذ کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ طبقاتی حکمران طبقہ، طبقا تی انتظامیہ ، طبقاتی عدلیہ، طبقاتی معاشرہ ، طبقا تی تعلیم،طبقاتی تعلیمی نصا ب کی عدل کش، انسانیت سوز فرعو نی طرز حیات کو سرکاری طور پر ملک میں رائج اور مسلط کئے بیٹھے ہیں۔ چودہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان ان ظالم ، غا صب ، منا فق اور بے رحم درند ہ صفات کے تباہ کن جمہوریت کے نظریات کی تکمیل میں مسخ و مسخر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
۹۔ چند افراد پر مشتمل طاغوتی نسل کے سیاستدان اور آمر حکمران چودہ کروڑ انسانوں پر جمہور یت کے فرعونی یزیدی ضابطوں سے ان کا معاشی خون اورجابرانہ طریقہ کار سے ان کے حقوق کو سلب کرنے میں مصروف ہیں۔ انتظامیہ اور عدلیہ کی مددو تعاون سے کچہریوں اور عدالتوں کے ذ ریعے دینی اقدار اور انصاف کو کچلتے چلے آرہے ہیں۔ ملک میں انارکی پھیلا تے چلے جا رہے ہیں۔ چودہ کروڑ ملت اسلا میہ کے فرزند ا ن کو ٹیکسوں،منی بجٹوں،مہنگائی کے اضافوں۔ وزیر وں ، مشیر و ں، حکمرانوں ،افسر شاہی ،نوکر شاہی ،منصف شاہی کی تنخواہوںاور بیشمار شاہی سہولتو ں میں انگنت اضافوں ،مستورات کی ایم ۔پی۔ اے،ایم این اے اور سینیٹر وں کی تعداد میں اضافوں کا لا متناہی جان لیوا معاشی بوجھ اقتدار کی نوک اور جبر کی تلوار سے عوام الناس پر ڈالتے چلے آرہے ہیں اور دین کی اقدار کو بھی نگلتے جا رہے ہیں ۔ اس عدل کش رائج الوقت نظام کی وجہ سے عوام پیٹ کی آگ بجھا نے اور بھوک سے بلکتے بچوں کی ضروریات مہیا کرنے کے لئے ہر قسم کے درد ناک اور اذیتنا ک عمل سے گذر تے چلے جا رہے ہیں۔ ملت اسلامیہ ان کی بد دیانتی، بے حیائی ، عدل کشی ، خود غر ضی اور اخلاقی پستی کے عبرتناک ساز کے سروں کا مضرا ب اور دکھی صداؤں کی پکار بنتی چلی جا رہی ہے۔ملت اور آبروئے ملت ان کے باطل ، غاصب نظریات اور ان کے ظالمانہ کردار کی بھینٹ چڑھتی چلی جا رہی ہے۔
۱۰۔ یہ نا گہانی اور بالائے نا گہانی کا فرعونی نظریات پر مشتمل جمہوریت کا کینسر مسلم امہ کے جسد اور روح کوبری طرح چمٹ چکا ہے۔فرعونی نظریات اور اس پر مشتمل ضابطہ حیات۔اس کی تعلیمات،اس کے علم اور عمل سے تیار کرکے اس کے انتظامیہ اور عدلیہ کے ظالم، بے رحم نظام کو ملت اسلامیہ پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ اس کے نتائج بڑی تیزی سے اجاگر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ غاصب ٹولہ مادیت اور اقتدار کی جنگ میں آدھا ملک یعنی مشرقی پاکستان پہلے ہی نگل چکاہے۔ اس بھیا نک اور گھناؤنے سانحہ اور المیہ کے محرکات‘اس کے عوامل کی پہچان کرنا اور اس باطل غاصب قافلے کے فرعونوں کو روکنا،ان کا تدارک کرنا،ان کے جراثیموں کو ختم کرنا اس دور کے دینی، روحانی اور مذہبی دانائے وقت درویشوں،فقیروں،حق گو،بیباک انسانیت دوست ہستیوں کا طیب فریضہ ہے۔ جو ان کو ادا کرنا ہے۔ وقت بڑی دیر سے ان کا منتظر کھڑا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنا اور مصلح قیا د ت مسلم امہ کو مہیا کرنا ان کا بنیادی فرض ہے۔
۱۱۔ دنیا میں بسنے والے غیر ترقی یافتہ ممالک کے عوام پر ترقی یافتہ ممالک کا جنگیں مسلط کرنے کا عمل ۔ معصوم ا نسانیت کا بلا جواز قتل و غارت اور ظلم و بربریت اور عبرتناک اذیتوںمیں سے گذارنے کا عمل ۔نائٹروجن بموں، کیمیائی بموں ، گیس بموں،ڈیزی کٹر بموں ،ایٹم بموں، تباہ کن میزائلوں،ٹینکوں،توپوں اور بیشمار مہلک ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کا انسانیت سوز عمل۔ انسانی بستیوں ،شہروں کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کا عمل۔ ہسپتالوں ، سکولوں، درسگا ہو ں ، کالجوں کو ملیا میٹ کرنے کا عمل۔خوراک کے ذخائر،پانی کے ذخائر اورفصلیں ،کارخانے،فیکٹریاں،ملیں اور انسانی اثاثوں کا نام و نشاں مٹانے کی کاروائیا ں۔ جنگوںکی تباہ کاریاں۔ جنگوں میں شکست خوردہ قیدیوں کے ساتھ عبرتناک انتقامی کاروائیوں کی داستانیں۔ جرمن قوم کے آٹھ سال سے لے کر اسی سال تک کے مردوں کا قتل عام۔ان کی مستورات کی بے حرمتی اور بد فعلی کی بد ترین داستانیں۔ ان کی چھاتیوں اور شرم گاہوں کو چیرنے کے اندوہناک واقعات ۔ ناگا ساکی اور ہیروشیما پر ایٹمی بموںکی بوچھاڑیں۔حیلہ بہانہ سے غیر ترقی یافتہ اور کمزور ممالک پر قبضے کی داستانیں۔ اسرائیل کی پشت پناہی اور عربوںکا قتل عام، افغانستان اور عراق کے عوام پر بلا جواز جنگیں مسلط کرنے کا عمل۔ اسامہ بن لادن اور صدام حسین جیسے نا فرمانوں کو سبق سکھانے اور ان کو صفحہ ہستی سے ختم کرنے کی خاطر ان درندہ صفات ترقی یافتہ ممالک کے درندوں نے لاکھوں معصوم و بے گناہ مرد و زن، بچے بوڑھو ں کا قتل عام کر دیا۔انسانیت کے ساتھ ظلم و تشدد کے واقعات اور ان کے اعضا شکن صدمات سے چور، ایک دکھیارا اپنی بے بسی اور بیکسی اور کسمپرسی کی اندوہناک حالت میں ڈوبا ایک فقیر دوست خدا مست مسکین رات کی تنہائیوں میں ان معصوم انسانوں کے بے دریغ قتال،ان کے زخموں کے اذیتوںکی کراہٹ ، ان کی بکھری پڑی لاشوںکی بے حرمتی کے عبرتناک واقعات کی یاداشتیں خون کے آنسوؤں میں ڈھالنے میںڈوبا پڑا ہے۔ اس ظلمت کدہ کی قتل و غارت کی تاریکی میں امن کے نور کی کرن کا متلاشی نیم جاں ، بسمل کی طرح تڑپ رہا ہے۔ باری تعالیٰ کی بار گاہ میں محو فریاد ہے۔ ہے کوئی جو ان فرعونی نسل کے حکمران ایجنٹوں کی عیسائیت میں نشان دہی کرنے والا! ہے کوئی ابن مریم کے نقش قدم پر چلنے والا!ہے کوئی اس دور میں روح القدس کی تعلیمات کو تسلیم کرنے والا! ہے کوئی عیسیٰ ر وح اللہ کے مذہب کی پیروی کرنے والا!ہے کوئی عیسیٰ علیہ السلام کی روحانی عبادت کا متلاشی! جو ان کی انسانیت دوستی،ادب اور خدمت کا چراغ اس دور میں روشن کر سکے! ہے کوئی جو جمہوریت کے ظالم،غاصب نظریات پر مشتمل فرعونی مذہب اور اس کے فرعونی نسل کے ایجنٹوں سے نجات دلا سکے! ہے کوئی جو ان سفاک درندوں سے عیسیٰ علیہ السلام کے عقائد،نظریات اور تعلیمات کو سرکاری سطح پر رہائی دلا سکے! ہے کوئی جوعیسیٰ علیہ السلام کے نورکی بالا دستی دنیا میں قائم کر سکے! ہے کوئی جو خدا اور اس کے انبیاء کے نورانی راستوں پر چلنے اور جمہوریت کے ظالم نظریات کی سرکاری پیروی کی برتری کو منسوخ کروا سکے! ہے کوئی جو انسانیت اور مخلوق خدا کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کر واسکے ! اور ان کی فلاح و بہبود کا عمل دنیا میں رواں ہو سکے!اعتدال و مساوات کے ر استے انسانیت کو میسر آسکیں!عدل و انصاف کی روحانی قندیلیں روشن ہو سکیں، اور ان کے کردار کی خوشبو دنیا میں پھیلا سکے!یہ ظالم، غاصب انسانیت کے قاتل اور پیغمبران کی تعلیمات کو نگلنے والے خونی دہشت گرد جمہوریت کے فرعونی نظریات کی پیداوار ہیں۔یا اللہ! ان منافقوں اور ظالم فرعونی غاصبوں سے پیغمبران کے الہامی نظریات،عقائید،تعلیمات اور کردار کو نجات عطا فرما۔ تا کہ یہ دنیا امن کا گہوارا بن سکے۔ آمین۔
۱۲۔ ان تمام تباہ کاریوں کا تدارک مذاہب کے نظریا ت کے روحانی اور آسمانی ضابطہ حیات کی سرکاری بالا دستی میں مضمر ہے۔اے پاکستانی مسلمانو! تم نے تو پاکستان اسلامی ضابطہ حیات اور اسلامی مملکت قائم کرنے کے لئے یہ ملک حاصل کیا تھا۔ تاکہ مسلم امہ پوری انسانیت کو الہامی اور روحانی تعلیمات سے روشناس کروا سکے اور دین کی قندیلیں اس جہان رنگ و بو میں روشن کر سکے ۔لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔بلکہ اس کے بر عکس مسلم امہ کا کردار دنیا کی اقوام میں بد ترین اور مذہبی انارکی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ملت کو اس وقت ایک اعلیٰ صلا حیتوں کے مالک اور با کردار دینی ،دنیاو ی قائد کی ضرورت ہے۔ جو ملک میں اسلامی قیادت قائم کر سکے۔ اور دنیا کو اس کی افادیت بھی سمجھا سکے۔تا کہ پوری انسا نیت کو راہ راست دکھایا جا سکے۔
۱۳۔ ان جمہوریت کے حکمرانوں کی طاغوطی اور فرعونی طاقتوں کے سامنے ایک خدا مست ازلی، ابدی، مذہبی ،دینی ، روحانی اور آسمانی سچائیاں لے کر ان کے سامنے آن کھڑا ہوا ہے۔یہ وقت کا روپ ید بیضا لئے، روح القدس کی مسیحائی لئے اور حضور نبی کریمﷺ کی رحمتوں کا انبار لئے بارگاہ ایزدی کے در پر مدد و معا و نت کا سوال لے کر آن کھڑا ہوا ہے۔ یا اللہ! تو ہمیں دین کی دوری کی سزا سے بچا۔ انسا نیت کو فرعونیت کے نظام،سسٹم اور ضابطہ حیات سے نجات عطا فر ما ۔ ہمیں دین کی روشنی میں دیدہ ور قائد، اور صالح قیادت عطا فرما اور دستور مقدس کو ان کا مقدر بنا ۔ تاکہ مخلوق خدا محبت و ادب کی روشنیوں میں زندگی کا سفر طے کر سکے۔ اور یہ جہان فانی امن و سلامتی کی آغوش بن سکے۔آمین ۔
۱۴۔ یادرکھو!مسلم امہ کربلا کے واقعہ سے لے کر آج تک دینی نظر یا ت اور دینی قیادت کی محرومی کا شکار ہوتی چلی آرہی ہے۔پاکستانی عوام کا دین اسلام ہے۔ ہندوستان میں مختلف اقوام،مختلف نظریات،مختلف مذاہب،مختلف عقائد پر مشتمل مخلوط معاشرہ قائم تھا۔ان میں سے ہندو اور مسلمان دو بڑی اقوام تھیں۔دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میںآیا۔انگریز ہندوستان اور پاکستا ن کے عوام کو آزادی دے کر رخصت ہوگیا۔ وہ خود تو چلا گیا لیکن صد سالہ غلامی کا طرز حکومت اور ضابطہ حیات اس کے قوانین و ضوابط،نظام اور سسٹم اسی طرح جو ں کا توں اپنے پروردہ جاگیر داروں سرمایہ داروں اور ان پر مشتمل حکمرانوںکے سپرد کر گیا۔اس نظام کو چلانے والی سرکاری مشینری کی افسر شاہی ، نوکر شاہی، منصف شاہی،اس کا عدلیہ اور انتظامیہ کا1857ء کے ایکٹ کی پیروی کا جابرانہ نظا م بطور تحفہ حکمرانوں کو عوام الناس کو مقید رکھنے او ر ان کے حقوق سلب کرنے اور ان کا معاشی خون چوسنے کیلئے وراثت میں دے گیا۔
۱۵۔ اس کا سودی معاشی نظام۔اس کی طبقاتی افسر شاہی،نوکر شاہی ،منصف شاہی اور ان طبقوں کو تیار کرنے والے انگلش میڈیم ، اردو میڈیم تعلیمی ادارے ۔ ان کا طبقاتی تعلیمی نصاب اور معاشرے کے طبقاتی طرز حیات کے تمام اصول و ضوابط کی پیروی اسی طر ح جاری ساری رہی۔جاگیرداری ،سرمایہ داری اور سودی نظام اسی طرح پروان چڑ ھتا رہا۔تہذیب و تمدن اپنی منزل کی مسافتیں اسی ظالم ،غاصب غلامی کے ضابطہ حیات کی آغوش میں طے کرتا رہا۔معاشرے کی قیادت انہی رہزن،عدل کش جاگیرداروں،سرمایہ دارو ں ، سیاستدانوں اور حکمرانوں کے پاس رہی۔یہ اسی جمہوریت کے فرعونی نظریات پر مشتمل بے دین ظالم ضابطہ حیات کی سرکاری طور پر پیروی کرواتے ،جو ایک غلام قوم پر انگریزوں نے مسلط کر رکھا تھا۔ اور یہی طبقہ دین کے نظریات کو آج تک پس پشت ڈالتا چلا آرہا ہے۔
۱۵۔ اس طرح مختلف عقائد پر مشتمل ملک میں پھیلی ہوئی دینی درسگاہیں۔ دین کی تعلیمات سکھا نے کی بجائے۔دین کی روح کو سمجھنے اور سمجھانے کی بجائے ۔ دین کی تعلیمات کو بروئے کار لانے کی بجائے۔دین کے نظام کو قائم کرنے کی بجائے۔دین کے دستور کو ملک میں نافذ کروانے کی بجائے۔اس کے اخوت و محبت کے درس کو عام کرنے کی بجائے۔دین کے عدل و انصاف کے سسٹم کو رائج کرنے کی بجائے۔ دین کے اعتدال و مساوات کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی بجائے انہوں نے عقیدہ پرستی اور فرقہ پرستی کی ملک میں آگ لگارکھی ہے۔اسوہ حسنہﷺ کے ضابطہ حیات کو پس پشت ڈالا ہوا ہے۔ نفرت اور نفاق کے اعمال کے پیرو کار بن چکے ہیں۔ ملک میں مذہبی انارکی پھیلا کر رکھ دی۔ان کی پرورش حکومتیں کرتی چلی آرہی ہیں۔ مسجدو ں اورامام بارگا ہو ں کا تقدس پامال کرنا ان کی زندگی کا مشن بن چکا ہے۔جن کتابو ں کے حوالے دئیے جاتے ہیںوہ کئی صدیاں پرانی ہیں۔ ان کی تصدیق کرنا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔ دین کے دشمنو ں نے نفاق کے کتنے باب ان کتابو ں میں درج کئے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ اس قتل و غارت اور نفاق کی آگ کو بجھانا ہوگا۔ اکملت لکم دینکم کے بعد کی تما م کتب کا جائزہ لے کر ان میں سے بیشتر کو منسوخ اور ختم کرنا ہو گا۔ان پاک اور طیب ہستیوں کے اعمال،کردار اور نظریات کی پیروی کرنا ہوگی۔تم کیسے مسلما ن اور ان طیب ہستیوں کو ماننے والے ہو۔حضرت امام حسینؓ نے تو بے دین یزیدی قیادت کے خلاف ایسا کلمہ حق ادا کیا۔جنکے کردار کا سورج ہمیشہ روشن و منور رہتا ہے۔تم نے1947 ء سے بے دین قائد اور بے دین غاصب قیادت بھی قبول کر رکھی ہے۔ اور جمہوریت کے فرعونی اور یزیدی نظریات کی اطاعت بھی کرتے جا رہے ہو ۔ بتاؤ !تم کیسے ان طیب اور عظیم ہستیوں کے نظریات کے ر ا ستے اور کردار کو ترک کرکے ان کے نام لیوا اور وارث کہلا سکتے ہو۔تم سب تو ان کے کردار اور نظریات کے قاتل، باغی اور منکر بن چکے ہو۔خدا را ۔غور تو کرو۔ اپنے اندر جھانک کر تو دیکھو۔ منافقانہ زندگی کو ترک کرو۔حسینیؓ کردار کی پرچار کر نے والو! ان کے غلام بن کر ان کے نظریات کو بحال کروانے کیلئے آگے تو بڑھو۔ حضرت امام حسین ؓپاک اور ان کے حسینی قافلہ کے ارکان آپ کو میدان عمل میں بلا رہے ہیں۔ پاک ،طیب اور دکھی بیبیاں آپ کوچیخ چیخ کر عملی طور پر یزیدی کردار سے نجات دلانے، ختم کرنے اور دین کو بچانے کیلئے پکار رہی ہیں۔ علی اصغرؓ کے زخم سسک سسک کر صدائیں بلند کر رہے ہیں۔ آؤ ان کے زخموں پر مرہم تو لگائیں۔ آؤ ان کے قافلے کے پیاسوں کو پانی تو پلائیں۔ آؤ ان کی بیبیوں کے ننگے سروں پر چادر تو دیں۔ آؤ اس یزیدی طرز حیا ت کے ظلم کو تو روکیں۔آؤ اس دینی نظریاتی ملک سے یزیدی نظر یا تی نظام کی بالا دستی اور حکمر ا نی توختم کریں۔آؤ نواسہ ء رسول ﷺ کے مشن کا علم تو بلند کریں ۔ ہم سب مسلمان ہیں۔ اور ایک ہی نبی ﷺکا کلمہ پڑھنے والے ہیں۔ہم دین کے منکر نہیں۔ راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ ہمارا کردار روایات میں گم ہو چکا ہے۔ ہمارے دل حسین ؓسے دور نہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم یزید کے نظام اور نظریات کے سرکاری شکنجوں میںجکڑے ہوئے ہیں ۔ ہم بے بس بنا دئیے گئے ہیں۔ ہمار ے قائد کربلا والوں کے کردار سے منہ موڑتے چلے آرہے ہیں۔ ہماری قیادت گمراہ ہو چکی ہے۔ ہمارے دینی پیشوا یزیدی نظر یا ت کی طرز حکومت سے منسلک ہو چکے ہیں۔ ہمارے جھوٹے روحانی پیشوا اور ان کے مریدین معاشیات اور ماد یت کے حصول میں گم اور غرق ہو چکے ہیں۔ ان کے مقام کا تعین باطل غاصب حکمر انوں، جاگیرداروں،سرمایہ داروں، وزیروں ، مشیروں، سفیر وں، افسر شاہی ، منصف شاہی کے معاشرتی درندوں کی آمد و رفت سے کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی حسینیؓ بصیرت کا آشنا یزیدی نظام کی نشاندہی نہیں کرتا ۔ اپنے قائدین اور قیادت کویزیدی اور فرعونی نظریات سے نہیں روکتا۔ وہ دین کے نظریات کا قاتل اور ان یزیدی نظریات کے نافذالعمل کرنے والے ٹولہ اور حکمرانو ں سے بھی زیا دہ بد بخت ، بدنصیب اور دینی نظریات کا قاتل ہے ۔آؤ! مسلم امہ اور ملت اسلامیہ کے قافلے کو یزیدی اور فرعونی نظریات کی سرکار ی طور پر پیروی کر نے کا تدارک کریں۔ آؤ! اس فرعونی نظریات کی بالا دستی حکومتی سطح پر ختم کریں ۔آؤ!اس قائد اور قیادت کی تلاش کریں۔ جو ملک اور ملت پر قرآن وسنت کے نظریات کی حکومتی سطح پر بالا دستی قائم کرسکے۔
۱۶۔ ملک کا نظام حکومت چلانے کیلئے انتظامیہ ،عدلیہ، معاشیات، سیاسیا ت اور تہذیبی طبقاتی کلچر کے تمام کے تمام ارکان کی تعلیم و تربیت انگریزکے رائج شدہ بے دین طبقاتی تعلیمی نصاب ، طبقاتی اساتذہ اور طبقاتی تعلیمی اداروں کے زیر نگرا نی ہوتی چلی آرہی ہے۔اس طرح ملک کی قیادت انگریز کے مسلط کردہ فرعونی اور یزیدی نظریات پر مشتمل قوانین و ضوابط اور انہی کے پروردہ جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور ان پر مشتمل حکمرانوں کی اطا عت اور اتباع کی پیروی میں مسلم امہ کا کارو ا ں پہلے کی طر ح رواںدواں ہے۔جاگیر دار،سرمایہ دار اور ان پر مشتمل حکمر ا ن طبقہ جمہوریت کی آڑ میں ایک بد ترین آمر،ایک پیشہ ور غاصب اور ایک پیدائشی رہزن کی طرح ملک کے وسائل،ملک کی پیداوار،ملک کی مصنوعات، ملک کی دو لت،ملک کا خزانہ اور چودہ کروڑ انسانوںکی دن رات کی محنت و مشقت اور خون پسینے کی کمائی۔ اقتدار کی بالا دستی کی نوک پر ان کی ملوں، فیکٹریوں، کارخانوں، کاروباروں، اندرونی بیرونی تجارت،ملکی غیر ملکی بنکوں کی تجوریوں میں کروڑوں ڈالر کے اکاؤ نٹ اور حکومتی محلوں ،ذاتی محلوں اورشاہانہ طرز حیات کی فرعونی اور یزیدی زینت بنتا چلا جا رہا ہے۔ زمینی اور فضائی رابطوں کیلئے ان کے تصرف میں، سرکاری گاڑیاں اور ہوائی جہاز مختص رہتے ہیں۔شاہانہ سہولتیں اور شاہانہ اخراجا ت ان چند جمہوریت پسند دہشت گردوں اور معاشی قاتلوں کا مقدر بن چکا ہے۔ پا کستا ن چودہ کروڑ مسلمانوں کا ایک ملک ہے۔یہ ملک دین کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ یہاں صرف اہل بصیرت دینی قائد اور دینی قیادت ہی اس ملک کو انارکی اور تباہی سے بچا سکتی ہے۔
۱۷۔ پاکستان دلکش اور فطرت کے عطیات سے نوازا ہوا چودہ کروڑ مسلم امہ کا حسین و جمیل گھر ہے۔یہ ملک دنیا میں اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان میں فرعونی اور یزیدی نظریات کی حکومت قائم ہے جو اسلامی نظریات اور اقدار کو نگلتی جا رہی ہیں۔۔اس میں بھی شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہی ملک[L:8] حضور نبی کریم ﷺ کے پروانوں کا مسکن ہے۔اس میںوسیع میدانی علاقہ بھی ہے‘کوہ و بیاباں بھی ‘ دشت و صحرا بھی‘نالے ندیاںاور دریا بھی‘ بیکر ا ں سمندر بھی‘ابر رحمت بھی اور ز مین دوز میٹھے ٹھنڈے پانی کے ذخائر بھی‘خوراک و لباس بھی اور وافر پیدا وار بھی‘دنیا بھر کے نایاب پھلوں کا مرکز بھی‘میوہ جات کے انبار بھی‘ انگنت سبزیا ں بھی‘چھوٹا بڑا گوشت بھی‘مرغی ،مچھلی کے سٹاک بھی ،دودھ ،دہی ،مکھن کے وافر مقدار میں اسباب بھی، گیس بھی اور تیل بھی ، چونا بھی اور سنگ مرمر بھی،قیمتی پتھر بھی، مختلف معدنیات بھی اور ان کے وافرسٹاک بھی اس دھرتی کے اندر موجو د ہیں۔ا س متاع ارضی کے بے شمار نیچرل وسائل کو،ملکی دولت کو، ملکی خزانہ کو سات آٹھ ہزارمعاشی اور معاشرتی آمر اور رہزن چودہ کروڑ افراد کا گھر لوٹے جا رہے ہیں ۔ ان کا گلا اقتدار کے فرعونی اور یزیدی پھندے سے گھونٹ کر بے بس اور نڈھال کر کے زندگی اور موت کی کشمکش میںمبتلا کئے بیٹھے ہیں۔ان سے نجات حاصل کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اسلامی صالح قائد اور دین پرور قیادت اس ملت کو مہیا کی جائے۔تا کہ ملک میں عدل و انصاف اور اعتدال و مسا وات اور دینی اقدار قائم ہو سکیں۔اس نجس نظام ،اسکے یزیدی کرداروں کو ختم کیا جائے۔تا کہ ملت کے جسدکو ان کرداروں کے کینسر سے نجات نصیب ہو سکے۔
۱۸۔ ستر فیصددیہاتوں میں بسنے والے کسا ن بھی۔اپنے فن کے ہنر مند بھی ۔ ماہر زراعت بھی۔زمین کو فصل کے لئے تیار کرنے والے خاموش ورکر بھی۔فصلوں کے موسموں کے آشنا بھی۔بیجوں کی نسلوں کے عارف بھی۔پھلوں اور میوہ جات کو وافر مقدار میں مہیا کرنے کے عامل بھی۔ فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے ہمراز بھی۔ جانوروں کو پالنے اور خدا کی ربو بیت کے فرائض ادا کرنے کے شاہکار بھی ۔ہر قسم کی پیداوار اور خام مال تیار کرنے کا محور بھی۔ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈ ی بھی۔غریب بھی اور تنگ دست بھی۔محنتی بھی اور ایماندار بھی۔سادہ بھی اور سخی بھی۔صالحہ بھی اور رحم دل بھی۔ ماٹی کی مورتی کا سندر پھول بھی۔ محنت و مشقت کے پسینہ کی خوشبو سے معطر بھی۔ فطرت کے اصولوں کا پاسباں بھی۔ انسان و حیوان،درند چرند پرند،کیڑے مکوڑوں کی ربو بیت کے عمل کا عامل بھی۔خلق خدا کا خدمتگار بھی، با ادب بھی اور بانصیب بھی۔ فطرت کے قریب بھی اور فطرت شنا س بھی۔ یہ تمام علم ،یہ تمام ہنر،یہ تمام اہلیت ۔ یہ تمام دانش برہانی۔یہ صبر و توکل کا پیکر۔ یہ ابر رحمت کا متلاشی۔یہ جانوروں کا خادم ۔یہ انسانیت کا خادم ۔یہ تمام فطرتی علوم اور پاکیزہ صلاحیتیں اس کو نسل در نسل ود یعت ہوتی چلی آرہی ہیں ۔ اس جھوٹے ،بد دیانت بد نصیب، ظالم، غاصب ، عدل کش سماج کے نظام اور سسٹم نے اور اس نظام اور نظریات کے رہزن لٹیروں نے ان کی پیداوار لوٹ لی اور وسا ئل چھین لئے ۔ ان کے حقوق پامال اور روند دئیے۔ان کو بھوک ننگ میں مبتلا کر دیا ۔ ان کو ذہنی اور جسما نی بیماریوں سے دو چار کر دیا۔ان کے معاشی اور معاشر تی حقوق سلب کر لئے۔ان کا گھر ۔ان کا ملک ان کے لئے اور ان کی نسلوں کیلئے معاشی اور معا شرتی قتل گاہ بنا دیا۔ اے سیاستدانو!اے حکمرانو!اے جمہوریت کے پروانو! اے انصاف پسند انسانی شکل میں۔۔۔۔ یہ تو بتاؤ ان ستر فیصد کسانوں کے پاس دیہاتو ں میں کتنے انگلش میڈیم پرائمری ادارے ہیں۔کتنے انگلش میڈیم ہائی سکولز ہیں ۔ کتنے کالج ہیں ۔کتنے سائنس کالج ہیں۔ کتنے زرعی کالج ہیں۔ کتنے کمپیوٹر کالج ہیں۔کتنے ٹیکنیکل کالج ہیں۔کتنے میڈیکل کالج ہیں۔کتنی یونیور سٹیا ں ہیں۔شرم کرو۔بتاؤ تو۔۔ ۔ کیوں گونگے ہوگئے ہو۔یہ عدل کش نجس فرعونی اور یزیدی نظام اور اسکے چلانے والے چند معاشی ،معاشرتی اور دینی نجس رہزنوں کو کچلنا وقت کا تقاضا اور چودہ کروڑ فرزندان اسلام کا مقدر بن چکا ہے۔
۱۹۔ کسانوں کو چھوڑو۔آؤ شہروں کا سروے کر لیتے ہیں۔انتیس فیصد شہروں میں بسنے والے ملوں،فیکٹریوں،کارخانوں کو تیار کرنے والے مزدوروں اور ان کو چلانے والے محنت کشوں،ہنر مندو ں کی تعداد کی گنتی کر لو۔ان کے علاوہ سرکاری اور نیم سرکاری دفتروں میں کام کر نے والے خاکروبوں، چپڑاسیوں، اردلیوں، چوکیداروں، گن مینوں، دفتریوں، مالیوں، جو نےئر کلرکوں، سینئر کلرکوں، سٹینو، ہیڈ کلرکوں ، اسسٹینٹوں اور نان گزیٹیڈ شودروں کی بھی تعداد کی گنتی کر لو۔ان کے علاوہ افسر شاہی، نوکر شاہی ،منصف شاہی کے گھروں میں سرکاری خزانے سے تنخوا ہیں حاصل کرنے والوں ۔ ان کے کھانا پکا نے والوں۔ گھر کی صفائی کرنے والو ں ۔ کپڑے استری کرنے والوں، جوتے صاف کرنے والے شودرو ں اور گا ڑیاں صاف کرنے والے کلینر و ں اور گاڑیاں چلانے والے ڈرائیو ر وں کی بھی گنتی کر لو۔افواج پاکستا ن اور پولیس کے سپا ہیوں، حوالدا ر وں کا بھی حساب لگا لو۔ان سرکاری اور نیم سرکا ری اہلکا روںکے علاوہ محنت مزدوری اور دیہاڑی دار طبقہ کے ورکر و ں، چھوٹے بڑ ے تاجروں ،دوکانداروں بوڑھوں، بیما روں ، اپاہجوں، ناداروں ، بیوہ، یتیموں ،معصوم بچوں اور بیروز گاروں پر مشتمل انتیس فیصد عوام الناس کا بھی حساب کر لو ۔ کہ ان نجس نظام کے چلانے والے حکمرانوں نے ان کی دولت،ان کی مصنوعات،ان کے وسائل اور ان کے خزانے کو کس نسبت سے اور کس طریقہ سے جمہوریت کے باطل نظام کی طبقاتی تقسیم کی یہ لوٹ مار اور بندر بانٹ کر رکھی۔ ملک کے خادم بن کر ووٹ حاصل کرتے ہو۔ اور رہزن بن کر ملک کو لوٹتے ہو۔یہ فرعونی یزیدی نظا م دینی قیادت کی ضرب کا منتظر ہے۔ حکمرانوں اور مزدور کی زندگی کا معاشی اور معاشرتی فرق ختم کرنا ہوگا۔ اعتدال اور مساوات کا عمل جاری کرنا ہوگا۔ اسلام تیری شان کو سلام۔ تو گورنر کو چرواہے بھی اور چرواہے کو گورنر کی ذمہ داریاں سونپنے کا شعور بھی انسانیت کو بخشتا ہے۔ان فرعونی یزیدی طبقاتی نظریات کے ایجنٹوں کو دین کا سبق سکھانے کا وقت ان کے سر پر آن پہنچا ہے۔ان کا کیا حشر ہونے والا ہے۔یہ کوئی نہیں بتا سکتا۔ فطرت کی خا موش کتاب کا ورق کھلنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ ان پر اور ملت اسلامیہ پر رحم فرماو یں ۔ صرف اتنا بتا سکتا ہوں کہ عدل و انصاف کی قیادت کسی عادل کے پاس ہوگی۔ اس ملک کی تمام متاع ارضی اس ملک کی ملکیت ہے۔ اور ا س ملک کاحا کم اعلیٰ اللہ جل شان ھو ہیں۔انسان اس دارلفناہ میں آتے جاتے رہیں گے۔خالی ہاتھ آئیں گے اور خالی ہاتھ واپس جائیں گے۔ اعمال کی گٹھڑی ان کے سر پر ہوگی۔کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔
۲۰۔ ستر فیصد دیہاتوں میں بسنے والے فطرت کی درسگاہ کے زرا عت کے ماہرین اور باطنی روح کے تربیت یافتہ پاکیزہ فطرت کسان اور انتیس فیصد شہروں میں بسنے والے لا جواب جفا کش مزدوروں، بہترین محنت کشوں، انمول ہنر مندو ں ،پر مشتمل خاموش ورکر جو خام مال سے ہر قسم کی مصنوعات تیار کرتے۔ مصنو عا ت کی کوالٹی کا معیار قائم کرتے۔ملکی خام مال اور معیاری مصنوعات میں اضافہ انہی کی محنت و ہمت کا ثمر ہیں۔پاکستان ان سب کا گھر ہے۔وہ اس گھر کی زینت ہیں۔وہ اس کے وارث ہیں۔تمام ملکی خام مال اور تمام مصنوعات،تمام دولت، تمام وسا ئل ،تمام خزانہ ان کی ملکیت ہیں۔ ۹۹ فیصد پاکستانی عوام جو ملک کی ہر قسم کی پیدا وا ر ،ہر قسم کی خوراک، ہر قسم کا اناج ، ہر قسم کا گوشت، ہر قسم کا لبا س، ہر قسم کے پھل ،ہر قسم کے میوہ جات،ہر قسم کی معد نیا ت،تیل گیس،لوہا ،کوئلہ ، چونا، نمک، ہیرے ،جواہرات،ہر قسم کے سنگ مر مر کے پتھر،اعلیٰ قسم کی یورینیم اور طرح طرح کے نئے سے نئے مختلف اقسام کے ذخائر زمین کی تہوں سے ڈھو نڈ نکالنے میں دن رات کوشاں ہیں۔ملک کے وسا ئل پیدا کرنا،ملک کی دولت اکٹھی کرنا،ملک کا خزانہ بھرناان کی زندگی کی عبادت اور ان کا نصب العین ہے۔
۱۔ اے حکمرانو! ذرا انصاف کاترازو تو ہاتھ میں پکڑو۔ بتاؤ تو۔کیا ان بیواؤں، یتیموں، اپاہجوں،بوڑھوں،بیروز گاروں کیلئے کوئی ذریعہ معاش سرکاری طور پر موجود ہے یا کوئی ایسا قانون موجود ہے۔ جس سے وہ زندگی کی روز مرہ کی بنیادی ضروریات زندہ رہنے کیلئے حاصل کر سکیں۔جیسا کہ آپ شاہی تنخواہیں،انگنت شاہی سہولتیں، شاہی رہائشیں،قیمتی گاڑیاں،فری ٹیلیفون،فری علاج معالجہ اور بیشمار سرکاری سہولتوں کے ڈاکے اقتدار کی تلوار کی نوک پرمارے جا رہے ہیں۔
۲۔ کیامزدوروں،محنت کشوں، ہنر مندوں کے پاس اتنے ذرائع یا اتنی سہو لتیں، یااتنے وسا ئل ۔یا اتنی آمدن ہوتی ہے کہ ان کے بچے بیکن ہاؤس،سٹی سکو ل ، گرائمر سکول،مشنری کے کانوینٹ سکول یا اس قسم کے دوسرے اعلیٰ شاہی طبقاتی انگلش میڈیم سکو لوں سے تعلیم حا صل کر سکیں ۔کیا یہ طبقاتی تعلیمی نظا م آج تک طبقاتی ضا بطہ حیات، طبقاتی معاشرہ تیار کرکے عدل و انصاف کو کچلتا نہیںآ رہا۔ کیا اس باطل کدہ کے نظام تعلیم کو پاش پاش کیا نہیں جا سکتا۔کیا ملک میں ایک تعلیمی نظام اور ایک تعلیمی نصاب قائم نہیں کیا جا سکتا۔کیا سرکاری گاڑیاں، سرکار ی ڈرائیور ،سرکاری پٹرول ان کے بچوںکو اعلیٰ تعلیمی اداروں تک لے جانے اور واپس لانے کے ا خر ا جا ت بچ نہ جائیںگے۔ یہ ظلم آخر کب تک ملک میں جاری رہے گا؟۔
۳۔ کیا ا ن کسان اور مزدور لوگوں کا بنیادی مسئلہ بچوں کو دو وقت کا کھانا ،لباس اور رہائش مہیا کرنا ہوتا ہے یا ان کو تعلیم دلانا۔اے معاشی رہنماؤ! ذرا آنکھ ملا کر تو بات کرو۔ اس جدید دور میں اور گلوبل لائف میں یہ ظلم کیسے روا رہ سکتا ہے۔یہ بالکل نا ممکن ہے۔ فطرت کا نشتر تیار ہو چکا ہے۔اس جمہوریت کے فرعونی اور یزیدی غاصب نظام نے عوام ا لناس کا دائرہ حیات تنگ کردیا ہے۔
۴۔ کیا بیمارو ں کا علاج معالجہ کرانا اس طبقہ کے بس کا روگ ہوتاہے۔اے معاشی طاقت کے وارثو!کیا یہ سچ نہیں کہ بیماری ہی ان کا پہلا اور آخری علاج ہوتا ہے۔ اتنا ظلم کرو جتنا تم برداشت بھی کر سکو۔یہ تمام بد ترین بد اعمالیاں فطرت کے نشتر کو اصلاح احوال کیلئے پکار پکار کراپنا عمل جاری کرنے کیلئے دعوت دے رہی ہیں۔
۵۔ آؤ۔ مل بیٹھیں اور ان محرکات کا پتہ چلائیں کہ ستر فیصد کسانوں اور انتیس فیصد مزدوروں محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس پر مشتمل معاشرہ معاشی اور معاشرتی انصاف سے کیوں محروم ہے۔ان تمام واقعات اورمحرکات کو سب مل کر ختم کر یں۔ جمہوریت کی بجائے دین کی بالا دستی ملک میں رائج کریں۔ تا کہ ملک میں متاع ارضی کی تقسیم کو دین کی روشنی میں ہر کس و ناکس کو اعتدال و مساوا ت اور انصاف کے طریقہ کار کے تحت تقسیم کیا جا سکے۔
۶۔ کیا جمہوریت کے سائے تلے ان سات آٹھ ہزار جاگیر داروں، سرما یہ داروں، سیاستدانوں ، حکمرانو ںکو ملی خزانہ اور ملی امانتیں اقتدار کی نوک پر لوٹنے کا کلی اختیار نہیں۔ کیا اس بد دیانت ٹولہ سے ملک و ملت کی پائی پائی واپس لینا ایک منا سب اور ضروری فریضہ نہیں۔ اور ان کے سرکاری اور غیر سرکاری اخراجات کو ایک مزدور،ایک محنت کش کے معیار کے مطا بق لانا۔ زندگی کی بنیادی ضروریات کے حصول کیلئے پور ے معاشرے میںعدل اور مساوات کے اصول و ضوابط کو قائم کرنا ایک دینی فریضہ اور عبادت نہیں؟
۷۔ آؤ مل کر اہل پاکستان کیلئے ملکی اور حکومتی سطح پر زندگی کے ہر شعبہ میں عد ل و انصاف اور اعتدال و مساوات کو فراہم کرنے کے لئے دین کی طرف رجوع کریں۔ تا کہ ملک و ملت انارکی اور بد حالی کی زندگی سے نجات حاصل کر سکے۔
۸۔ آؤ۔ مل کر ملک کے انحطاط اور ملت کے زوال کے اسباب ڈھونڈ نکا لیں اور ان کا تدارک کریں۔دین کی روشنی میں صالح قائد اور دینی قیادت کے عمل کو برو ئے کار لائیں۔تا کہ ملک و ملت فلاح کے راستے پر گامزن ہو سکیں۔ ان تمام غاصب جابر،ظالم اور بے رحم طریقہ کار کو ختم کریںجو ان جمہوریت کے پروردہ حکمران طبقہ نے رائج کر رکھے ہیں ۔
۹۔ آؤ۔ آدھا ملک گنوا لینے کے واقعات کا تجزیہ کریں۔اوران حالات و واقعات اور اسباب کا تجزیہ کریں۔ جن کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا۔ اور مل کر اس کا سد باب کر نے کا عمل جاری کریں۔
۱۰۔ آؤ۔ان حقائق کوملت کے سامنے لائیں کہ ستر فیصد کسان خام مال اور ہر قسم کی پیداوار ملک میں پیدا کریں۔ ملت کی ضرورت بھی پوری کریں۔ اور بیرون ممالک تجارت کی ڈیمانڈ بھی پو ری کریں۔ انتیس فیصد مزدور،محنت کش ، ہنر مند اور عوام الناس ملک میں ملیں،فیکٹریاں،کارخانے ہر قسم کی بلڈنگیں تعمیر کر یں ۔ سڑکیں، ایر پورٹ، ڈیم،نہریں، بندر گاہیں، گاڑیاں، توپیں،ٹینک،ہوائی جہاز،میزائل،ہر قسم کا اسلحہ،مختلف اقسام کے بم،اعلیٰ قسم کے ایٹم بم تیار کرنے کے اخراجات بھی برداشت کریں۔ تیل ،گیس کے ذخائر ہر قسم کی معدنیات کے مخفی خزانے ڈھونڈ نکالیں۔ہر قسم کی مصنو عات تیار کریں۔ملکی کفالت بھی کریں۔ اندرونی بیرونی تجارت کے فرا ئض بھی ادا کریں۔یعنی ۹۹ فیصد کسان اور مزدور پیداوار بھی مہیا کریں اور مصنو عات بھی۔اس کے علاوہ ملک کے وسائل بھی بڑھائیں اور زیادہ سے زیادہ ملکی دولت اور خزانہ بھی جمع کریں۔
۱۱۔ سات ،آٹھ ہزار افراد پر مشتمل جاگیر دار،سرمایہ دار،سیاستدان اور حکمر ان ملوکیتی طبقہ جمہوریت کے باطل ،غاصب نظام کے ذریعہ اقتدار پر بالا دستی حاصل کر کے ملک کی دولت ،وسائل اور خزانہ پر قابض ہوتے جائیں۔ ان سے وزیر اعظم ہاؤس سے لے کر پریذیڈینسی تک۔وزیر اعلیٰ ہاؤسز سے لے کر گورنر ہاؤسز تک، وزیر ہا ؤسز سے لے کر سفیر ہاؤسز تک،اسمبلی ہالوں سے لے کر کنوینشن ہالوں تک۔ پنجا ب ہاؤ سوں سے لے کر سندھ ہاؤسوں تک۔ لا تعداد کلبوں سے لے کر اسلام آباد کلب تک۔ سپریم کورٹ بلڈنگ سے لے
کرہائی کورٹس کی اعلیٰ عمدہ بلڈنگوں تک۔ملک میں پھیلی ہوئی افسر شاہی،نوکر شاہی ، منصف شاہی کے بے نظیر جدید شاہانہ طرز کے سجے سجا ئے عمدہ دفتروں اور رہائشوں پر مشتمل بلڈنگیں شداد، ہامان،فرعون اور یزید کے کلچر کی نشانیاں ہیں جو اس نجس جمہوریت کے نظام کی پیدا کردہ ہیں ۔
۱۲۔ بیرونی ممالک میں پھیلے ہوئے سرے محلوں،ملوں،فیکٹریوں،کارخانوں، کاروباروں،بنکوں میں جمع شدہ ان کی تمام رقوم ملک اور ملت کی ملکیت ہیں جو انہوں نے جمہوریت کے ذریعے اقتدار پر فائز ہو کر حاصل کر رکھی ہیں۔۔
۱۳۔ ملک میں پھیلے ہوئے رائے ونڈہاؤسز،شاہی محلات ان کی شہروں سے الگ تھلگ بستیاں اور ان کی تمام اعلیٰ،عمدہ،لاجواب اور لاتعداد بلڈنگیں ان کے نجس نظام کے جرائم کی منہ بولتی تصویریں ہیں۔جو عدل و انصاف کے عادل کو پکار رہی ہیں ۔ کہ ان ظالمو ںکا فوری احتساب کریں۔
۱۴۔ جمہوریت کے بے دین طرز حکومت کے ذریعے ملک کے تما م وسائل ، ملک کی تمام دولت ،ملک کا تمام خزانہ ۔حکومتی بالا دستی کے اختیارات سے ان کی ذا تی ملکیتوںمیں بدلتے اور ان کے اندرونی اور بیرونی بنکوں کے کھاتوں میں منتقل ہوتے جاتے ہیں۔ ملک کے چودہ کروڑعوام کو یہ غاصب،ظالم بے رحم حکمران ملوکیتی طبقہ اعتدال و مساو ا ت،عدل و انصاف سے محروم کرتا اور ان کے بنیادی حقوق کو انتظا میہ اور عدلیہ کی تلوار سے کچلتا جا رہا ہے۔
۱۵۔ ملک کے ۹۹ فیصدکسان ،مزدور،محنت کش،ہنر مند اور عوام الناس کی بیشتراولادیں خوراک سے محروم،لباس سے محروم،چھت سے محروم،تعلیم سے محر و م ،بجلی،گیس اور پانی سے محروم،ادویات سے محروم،روزگار سے محروم ، زندگی کی بنیا دی ضرورتوں سے محروم چلی آرہی ہیں۔یہ چند کالے انگریز اقتدار کی نجس تلوار سے معاشی طاقت رہزنوں کی طرح چھینتے اور معاشرتی اقدار جنگل کے درندوں کی طرح روندتے چلے آرہے ہیں۔عوام غربت،تنگ دستی،بیروزگاری سے تنگ آکر خود کشیاں،خود سوزیاں کرتے چلے آرہے ہیں۔
۱۶۔ کیا انگریز کے مفتوحہ عوام کو انگریزوں کے قانونی دانشوروں کے تیار کردہ 1857ء کے ایکٹ کے ضابطہ کے شکنجے میں آج تک مقید نہیں کر رکھا۔ان کو انتظا میہ کی گرفت اور عدلیہ کی تلوار سے روندتے چلے نہیں آرہے؟۔
۱۷۔ ملک میں سودی معاشی نظام کا یہودی معاشی دانشوروں کا شکنجہ،ٹیکسوںکا کلچر اور شکنجہ،مہنگائی کا شکنجہ، عوام سے معاشی طاقت چھیننے کا شکنجہ،معاشی طبقاتی نظام کے ذریعہ حصول اقتدار پر قابض ہونے کا شکنجہ۔جس کے ذریعہ ہر طبقہ کے معاشی برتری والے جمہوریت کے سیاسی لیڈروں کا شکنجہ۔جس کی بنا پرفرعونی اور یزیدی طاقتیں ملک پر قابض ہوتی جا رہی ہیں۔کیا اس میں کوئی شک کی گنجائش ہے۔
۱۸۔ ملک میں طبقاتی نظریات ہندو سکالروں کا تیار کردہ معاشرتی نظام ہے ۔ جو طبقاتی معاشرہ کو جنم دیتا ہے۔ جو براہمن اور شودر پیدا کرتا ہے۔ ان تینوں نظریا ت پر مشتمل ملک میں دین کش باطل،غاصب جمہوریت کے ظالم فرعونی اور یزیدی نظام کے مطابق ان کی حکومتیں قائم ہوتی چلی آرہی ہیں۔کیا جمہوریت کی آڑ میں مسلم امہ کی نسلوں کو دین کے نظریات سے فارغ نہیں کیا جا رہا۔
۱۹۔ دیہاتوں کے سکولوں سے جو بھی سطحی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں۔ وہ سرکار ی اور غیر سرکاری دفاتر میںاور خاص کر پولیس اور فوج میں
بطور سپاہی، اردلی خانساماں، چوکیدار ، مالی، بٹمین،دھوبی ،حجام ،ڈرائیور جیسی درجہ چہارم کے طبقہ کی نوکریا ں حاصل کر کے شودر کی بد ترین زندگی گذارتے چلے نہیں جا رہے ہیں۔
۲۰۔ اس کے بعد اردو میڈیم ادارو ں کے فارغ البال درجہ سوئم کے طبقہ کی اولادو ں کو جونئیر کلرک ،سینئر کلرک،سپرنڈنٹ ،اسسٹنٹ،الیکٹریشن،میکینک وغیرہ کی نان گزیٹیڈ کی تمام ملازمتیں ان کے لئے وقف ہوتی ہیں۔
۲۱۔ اسی طرح درجہ دوئم کے طبقہ کی اولادوں کوکلاس ٹو کی گزیٹیڈ کی تمام آسامیو ں پر تعیناتیاں ہوتی رہتی ہیں۔
۲۲۔ کلاس ون کی تمام افسر شاہی،منصف شاہی کی شاہانہ ملازمتیں اس اعلیٰ طبقہ کی اولادوں کے لئے مختص ہوتی ہیں۔ یہ اعلیٰ طبقہ کی افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ کی وارث اور سرکاری اور غیر سرکاری ملاز مین کی بادشاہت اس طبقہ کے پاس ہوتی ہے۔وزارتیں،مشاورتیں سفارتیں اور صدا ر تیں ان اعلیٰ طبقہ کے جاگیر داروں، سرمایہ داروں، سمگلروں، بلیکیوں، سیا ستد ا نو ں کے پاس ہوتی ہیں۔ملک کے سات آٹھ ہزار افراد پر مشتمل اعلیٰ طبقہ نے پاکستان کے چودہ کروڑ مسلم امہ کے ستر فیصد کسانوں،انتیس فیصد مزدوروں، محنت کشوں، ہنرمندوں اور عوام ا لناس کی نسلوں کو جمہوریت کی بد ترین غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔
۲۳۔ پاکستان میں طبقاتی نظام حکومت جمہوریت کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس نظام کو چلانے کے لئے ا ن جاگیرداروں،سرمایہ داروں، سیاستدانوں، سمگلروں ، بلیکیوں، رشوت خوروں،کمیشن خوروں، شفارش خوروں،رہزنوںاور حکمرانوں کی اولادیں، شاہی اخراجات والے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کر کے افسر شاہی، نوکر شاہی اور منصف شاہی کے طبقاتی اعلیٰ سرکاری اداروں پر قابض ہو کر ملک کی باگ دوڑ ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔جو ہر دور کے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے ساتھ مل کر دینی نظریات کو سرکاری سطح پر منسوخ کرکے ملت اسلامیہ کو ایک نظریاتی المیہ سے دوچار کئے جا رہے ہیں۔
۲۴۔ آؤ !مل کر بارگاہ الٰہی کے سامنے ہاتھ اٹھائیں اور پکار کریں کہ ہم پر رحم فرما۔ اور ہمیں اس ظالم غاصب باطل جمہوریت کے فرعونی،یزیدی نظام سے نجات دلا۔اے اللہ ہم مجبور و بے بس ہیں ہم پر اپنا خاص کرم فرما۔آمین ۔
۲۵۔ آؤ!حضور نبی کریمﷺ کے در پرعجز و انکساری سے التجا کریں کہ ہمیں دستو ر مقدس کو ملک میںنافذکرنے اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما ئیے۔
۲۶۔ آؤ! عوام الناس کی دین سے دوری کے اسباب تلاش کر یں ۔ اور ان اسباب کو ختم کریں۔دین اور دینی قوتیں بحال کر نے کیلئے عمل پیرا ہوں۔
۲۷۔ آؤ!اس عدل کش،بے دین جمہوریت کے ملوکیتی نظریات اور یزیدی نظام کا قلع قمع کریں ۔
۲۸۔ آؤ!اس غاصب جمہوریت کے فرعونی سسٹم کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں۔
۲۹۔ آؤ!معاشرے میں معاشی اعتدال ختم کرنے والے ضابطہ حیات کو منسو خ اور اس کے ظالم ،بے رحم اورسفاک ہاتھوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کریں۔

۳۰۔ آؤ !متاع ارضی کو لوٹنے والے بے دین جمہوریت کے غاصب رہزنوں کا احتساب عمل میں لائیں اور ان کو دین مقدس کے آئین کا راستہ دکھائیں۔
۳۱۔ آؤ! بے گناہ مجبور اور بے بس ،بے روز گار خود کشی اور خود سوزی کرنے والوں کی ذہنی کیفیتوں سے آشنائی تو حاصل کریں۔ کہ وہ کن کن معاشی اور معاشر تی تلخیوںاور اذیتوں کی وجوہات پر اپنی زندگی کو ختم کر دیتے ہیں۔ایسا کیوں کرتے ہیں اور ان کے مجرم کون ہیں۔
۳۲ ۔ آؤ!ان کسانوںکی بات کریں جو صحراؤں بیابانوں میں پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔آؤ !ان جانوروں اور ان انسانوں کی بات کریںجو خشک سالی کے دوران بھوک اور پیاس سے تڑپتے بلکتے اور صحرا کی سورج کی تپش سے سسکتے دم توڑ جاتے ہیں۔اس ملک میں ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔
۳۳۔ آؤ !ا ن کسانوں اور ان عظیم انسانوں کی بات کریںجو شہروں بستیوں، پہاڑوں ان کے دامنوں،میدانوںاور بیابانوں میں جا کر ڈیرے ڈالتے،اپنے گھروندے تیار کرتے اور کھیتی باڑی کے فرائض ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔وہ ضروریات زندگی اور پانی جیسی بنیادی ضرورت کو حاصل کرنے کیلئے کوسوں دور آتے جاتے ہیں۔
۳۴۔ آؤ !اس انمول کسان کی بات کریں۔ جورات کے آخری پہر اٹھتا ہے اور دن بھر زمین کے دل کو چیرتا۔اس میں ہل چلاتا۔اس کو فصل کیلئے تیار کرتا۔اس میں بیج بوتا۔اس کو پانی دیتا۔فصلوں کو تیار کرتا۔اس کو کاٹتا۔اس سے اجناس حاصل کرتااور اس کو پورے ملک کو مہیا کرتا۔یہ عمل زندگی بھر جاری رکھتا ہے۔ مخلوق خدا کی ربو بیت کے فرائض ادا کرتااور زندگی کے تنگ دستی کے المناک ایام گذار کر اپنے مالک کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
۳۵۔ آؤ! ان کسانوں کے کردار کی خوشبو جس نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ کو معطر کر رکھا ہے اس کو تسلیم کریں۔کہ وہ چودہ کروڑ انسانوں کے محسن عظیم ہیں۔ جن کو وہ ہر قسم کا اناج،ہر قسم کی خوراک، ہر قسم کی سبزیاں، ہر قسم کا پھل،ہر قسم کے میوہ جات، ہر قسم کے جانور، دودھ مکھن اور گھی کے سٹاک، ہرقسم کا گوشت، ہر قسم کی کھالیں، ہرقسم کے جوتے، ہر قسم کی اون، ہر قسم کی بہترین کپاس،ہر قسم کا لبا س ،ہر قسم کی لکڑی،ہر قسم کا فرنیچر،ہر قسم کا لکڑی کا تعمیر کا سامان، ہر قسم کے بہتر ین چاول،ہر قسم کی اجناس کا وافر مقدار میں اپنے ہموطن انسانوںاور جانوروں کو مہیا کرکے ربوبیت کے فرائض ادا کرتا چلا آرہا ہے ۔اس کے علاوہ ہر قسم کا خام مال وافر مقدار میں مہیا کر کے ملک کی تجارت کو بھی فروغ دینے کے فرائض کی ذمہ داری ادا کرتا چلا آرہا ہے۔ کسان ملکی معیثت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ان کے حقوق کا تحفظ کرنا حکمرانوں کا فرض اولین ہے نہ کہ ان کا خون پینا۔
۳۶ آؤ! ان مزدوروں،محنت کشوں، ہنر مندوںاور ملکی معماروں کیطرف نگاہ اٹھا کر ذرا دیکھ تو لو۔کہ کس مہارت سے انہوں نے چھوٹے بڑے ڈیموں کا جال ملک میں پھیلا دیا ہے۔دریاؤں،نہروں ،ندی نالوں پر کس ہنر مندی سے پلوں کی تعمیر کا کام انہوں نے سر انجام دیا ہے۔بندر گاہوں کی مرمت و تعمیر کا کام کتنی تیزی سے مکمل کرتے چلے آرہے ہیں۔ملک میں ہوائی اڈوں ، چھوٹی بڑی سڑکو ں کے
جال بچھاتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کے علاوہ وہ شاہراہ ریشم اور موٹر وے جیسی جدید سڑکوںکو بین الاقوامی معیار پر تیار کرکے انہوںنے اپنی ہمت و اہلیت کے جھنڈے گاڑدئیے ہیں۔
۳۷۔ صدر ہاؤس،گورنر ہاؤسز،وزیر اعظم ہاؤس،وزیر اعلیٰ ہاؤسز ،اسمبلی ہاؤسز، کنوینشن ہال،سندھ ہاؤسز،بلوچستا ن ہاؤسز،فرنٹیر ہاؤسز، سپریم کورٹ بلڈنگ، سیکٹریٹ بلڈنگز لا تعداد شاہی کلبیں،بیشمار ملک میں پھیلے ہوئے ریسٹ ہاؤسز ،بڑے بڑے تعلیمی اداروں کی بلڈنگیں،بڑی بڑی اکادمیوں کی بلڈنگیں ، بڑی بڑی یونیورسٹیوں کی بلڈنگیں،اعلیٰ کالجوں اور سکولوں کی بلڈنگوںکی تعمیرات کا کام یہی مجبور و محکوم مزدور دن رات کوشاں رہ کر تعمیر کا کام سر انجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔لیکن بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ ان کے پاس سر چھپانے کے لئے کوئی گھر یا کوئی جھونپڑی تک نہیں ہوتی۔یہ کیسا ظالم بے رحم سماج ہے۔یہ کیسے بزدل،کمینے،بے حیا حکمران ہیں جو عدل و انصاف اور دین کی اقدار کو روندتے چلے جا رہے ہیں۔
ٓٓٓ۳۸۔ آؤ! ان کے سرکاری اسٹنٹ کمشنرہاؤسز،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہاؤسز،ڈپٹی کمشنر ہاؤ سز ،چیف کمشنر ہاؤسز، اے ایس پی ہاؤسز،ایس پی ہاؤسز،ڈی آئی جی ہاؤسز، آئی جی ہاؤسز ،ہوم سیکٹریز ہاؤسز،سیکشن آفیسر ہاؤسز،ڈپٹی سیکٹری ہاؤسز، جا ئنٹ سیکٹریز ہاؤسز،ایڈیشنل سیکٹریز ہاؤسز،سیکٹریز ہاؤسز ،چیف سیکٹریز ہاؤسز اور ان کے عالیشان بلڈنگوں پر مشتمل انگنت تحصیلوں،ضلعوں،صوبوں اور وفاقی سطح پر پھیلے ہوئے لا تعداد دفاتر اور ان دفاتر میں طبقہ وار ڈیکوریشنز، عمدہ قسم کے قالین ، قیمتی فرنیچر،محلوں اور دفاتر میں بے شمار طرح طرح کے ٹیلیفون،لاتعدادجدید سہو لتیں،بیرون ممالک سرے محلوں، رائے ونڈہاؤسز،شاہی پیلسز ، ملک میں پھیلے ہوئے بڑے چھوٹے شہروں اور عظیم شہروں میں عوامی بستیوں سے الگ تھلگ ان کے عظیم،لاجواب شیش محل کو شرما دینے والے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے والے اور دنیا کو حیرت میں ڈ النے والے شاہی محل ان کی فرعونی آماجگا ہیں ہیں ۔ جو ملک کی مخصوص اورقیمتی بستیوں میں الگ تھلگ تعمیر ہوتی اور پھیلتی جا رہی ہیں۔ جو جنت نظیر دکھائی دیتی ہیں۔ان سب تعمیرات کا کام،ان کے ڈیزائن،ان کا میٹیر یل ان کے یہ سب سنگ و خشت کے معجزات ان مزدوروں،محنت کشوں اور ہنر مندوں کی تخلیق ہیں اور انکے خون جگر سے سینچے جاتے ہیں۔
۳۹۔ آؤ! ملک میں پھیلی ہوئی ملوں،فیکٹریوں،کارخانوں،چھوٹی بڑی صنعتو ں میں اضافوںکی تعمیر و تکمیل کرنے والے ان عظیم مزدوروں، لا جواب محنت کشو ںاور بے نظیر ہنر مندوں کے ہاتھوںکو تو ایک نگاہ پیار سے دیکھ لیں۔اس کے علاوہ ان تمام ملوں ، فیکٹریوں ا اور کارخانوں کے ورکرو ں کو سلام تو کر لیں۔ جو خام مال کو مصنوعات میں بدل کر چودہ کروڑ انسانوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں ۔ یہی ستر فیصد کسان اور انتیس فیصد مزدور ،محنت کش ،ہنرمند تمام عوام الناس کو روز مرہ زندگی کی بنیادی اشیا ء کی مانگ اور سپلائی کے فرائض کو احسن طریقہ سے سر انجا م دیتے چلے آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی اندرونی اور بیرونی تجار ت کو دن بدن فروغ دینے میں بھی ان کا کلی ہاتھ ہے۔
۴۰۔ آؤ! اس حقیقت کو تسلیم کریں ۔ کہ ستر فیصد دیہاتوں میں بسنے والے کسا ن اور ان کے شعبہ سے منسلک عوام، اس کے علاوہ انتیس فیصد مزدور ،محنت کش ، ہنر مند اور ان سے منسلک تمام پیشوں کے عوام، اس ملک کے اصل وارث ہیں۔ ملک کی تمام دولت،تمام وسائل،
تمام خزانہ ان کی ملکیت ہیں۔ تما م خام مال،تمام ملیں، کارخانے، فیکٹریاںان ہی کے خون جگر کی تیار شدہ ہیں۔تمام ملکی اور صنعتی پیداو ار کے اصل مالک بھی یہی لوگ ہیں۔
۱ ۴۔ 1947 ء سے قبل انگریزوں نے ایک مفتوحہ ملک و قوم کو ایسے قوانین ،ضوا بط کے شکنجوں میں جکڑ لیا اور ان کو اپنی گرفت میں قابو کرلیا۔جس سے وہ ان کی تمام دولت ،وسائل،خزانہ ، ان سے قوانین کی نوک پر اپنی انتظامیہ اور عدلیہ کی ہیبت ناک اور عبرتناک فرعونی طاقت سے یہ سب کچھ چھین کر اپنے ممالک لے جا تے۔اب یہ حکمران اسی نظام اور سسٹم سے اسی طرح اپنا عمل جاری کئے ہوئے ہیں۔کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں۔
۴۲۔ آؤ!حقائق کی روشنی میںان کسانوں، مزدورں،محنت کشوں،ہنرمندوں کی ملکی خدمات اور ان کی نسلوں کی قربانیوں کی یادیں تو تازہ کریں۔جہاں وہ ملکی ضروریات کے لئے ہرقسم کی پیداوار ، ہر قسم کا خام مال، ہر قسم کی تعمیرات ،ہر قسم کی مصنوعات اور ہر قسم کی دولت کو مہیا کرکے ملک کو ترقی کے راستہ پر گامزن کئے جارہے ہیں۔وہاں وہ ملکی دفاع کیلئے دن رات کوشاں نظر آتے ہیں۔ملک کی اسلحہ ساز ی سے لے کر ‘ توپوں ٹینکوں سے لے کر،ایٹمی آبدوزوں سے لے کر، ایٹمی پلانٹوں سے لے کر،ایٹمی وار ہیڈوں سے لے کرایٹمی میزائلوں سے لے کر ایٹم بموںتک میں ان کی محنت و مشقت کا معاشی خون شامل ہے۔افواج پاکستان میں کک، بھنگی، سپاہی، ڈرائیور ، بٹمین سے لے کر چھو ٹے رینکر تک کے ننانوے فیصد تمام سرکاری محکموں اور لاکھو ں فوجی عملہ ان کسا نو ں، مزدوروں،محنت کشوں، ہنر مندوں کی اولاد وں پر ہی مشتمل ہے۔
۴۳۔ آؤ !ذرا ان جمہوریت کے سرمایہ داروں،جاگیر داروں پر مشتمل پرستارو ں کی تعداد توگن لیں۔یہ ساڑھے سات آٹھ ہزار افرادپر مشتمل ایک اعلیٰ نسل کا ایسا کالے انگریزوں کا طبقہ ہے۔جو جمہوریت اور یزیدیت کے نظریا ت کا پیروکار ہے۔ان کی معاشیات اور حکومتی سطح پر بالا دستی انگریز کے دور سے قائم ہے ۔ وہ جمہوریت کے الیکشنوں کے ذریعہ ایم این اے،ایم پی اے اور سنیٹروں کی شکل میں کامیاب ہو کراسمبلیوں اور سینٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔ان کی کل تعداد بارہ ،تیرہ سو کے لگ بھگ ہوتی ہے۔یہ آپس میں صدر پاکستان، وزیراعظم، گورنر، وزیر اعلیٰ،وزیر ، مشیر،سفیر کی تعیناتیاں کر لیتے ہیں۔اس طرح وہ ملک کی تمام دو لت ،تمام وسا ئل ،تمام مال و متاع،تمام خزانہ پر بالا دستی قائم کر لیتے اور قابض ہوجاتے ہیں۔اس کے بعد خو د رہزنوں کی طرح خوب لوٹتے جاتے ہیں۔یہ طبقہ نہ ہل چلاتا ہے۔نہ ٹوکری اٹھاتا ہے۔نہ مزدوری کرتا ہے ۔ اور نہ ہی وہ کہیں تعمیری کام کرتا ہے۔وہ تو سماجی برتری کی بنا پر اسمبلیوں میں پہنچ کر وزارتیں، مشاو ر تیں، سفارتیں، اور حکومتیں صرف سنبھالتے اور ملک لوٹتے چلے آرہے ہیں۔
۴۴۔ ملک کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سب سے پہلے وہ انتظامیہ اور عد لیہ کے سر براہوں کوجو پہلی حکومتوں کے منظور نظر ہوتے ہیں ۔ان کو او ۔ایس ۔ ڈی بناتے ہیں یا تبدیل کر کے ان کی جگہ اپنے یا اپنے پسند کے افسر شاہی، منصف شاہی اور نوکر شاہی کے افسران کو ملک کی اہم انتظامیہ اور عدلیہ کی پوسٹوں پر متعین کرنے کا اہم کام سر انجام دے لیتے ہیں۔ان کے ذریعہ اقتدار کی نوک پر اور ایک فاتح کی حیثیت سے ملک کے تمام وسائل،ملک کی تمام دولت، ملک کے تما م خزانہ کو اپنی ملوں،فیکٹریوں،کارخانوں،شاہی محلوں، سرے
محلوں،رائے ونڈ ہاؤ سو ں ، لا تعداد شاہی پیلسوں ، لینڈکروزروں،پجاروں، جاگیروں اور ملک کی تمام اند رو نی ،بیرونی تجارت کواپنے اپنے دور اقتدار میں اپنی اپنی ملکیتوں میں بدلتے اور ڈھا لتے چلے آرہے ہیں۔1947 ء سے لے کر آج تک ایک بھی ایسا حکمر ا ن یا قائد ملک کو میسر نہیں آیا۔ جو اس دین کش جمہوریت کے غاصب نظام اور ان ظالم،بے رحم معاشی رہزنوں اورعدل و انصاف کو کچلنے اور دین محمدیﷺ کو روندنے والے درندوں سے ان چودہ کروڑ عوام کی جان چھڑاتا اور اعتدال و مسا وا ت اور عدل و انصاف اور دین کی بالا دستی ملک میں قائم کرتا۔
۴۵۔ ملک میں سیاستدانوں کی حکومت ہو یا فوجی حکومت ہو ان کے نائب و مصاحب،ان کے وزیر،ان کے مشیر،ان کے وزیر اعلیٰ ان کے وزیر اعظم،ان کے سفیر اسی جاگیر دار،سرمایہ دار اور سیاستدان طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ پا ک فوج ان کی اور ان کی انتظا میہ اور عدلیہ کی گرفت میں آجاتی ہے۔ ان کے جمہوریت کے نظام اور سسٹم کو نہ وہ توڑسکتے ہیں اور نہ ہی بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔وہ تو انگریز کے تعلیمی نصاب اور انکی اکیدمیوں کے طبقاتی نظام کی پیداوار اور شاہکار ہوتے ہیں۔ انکے دور حکومت میں سیاستدا ن اقتدار کی خاطراپنی سیاسی جما عتو ں کو نئے رخ دیتے،ان کے سیاسی نام بدلتے، اپنے اقتدار کے ساتھیوں کو اکٹھا کرتے اور اس نئی سیاسی جماعت میں شامل ہو کراور اپنی اپنی سیاسی جماعتو ں کے غدا رو ں کے ساتھ مل کر ملکی غداروں پر مشتمل سیا سی ممبران کی نئی حکومت قائم کرتے اور ملک کا اقتدار ان سیاسی غدار و ں پر مشتمل حکمرانوں کے پاس پہنچ جاتا ہے۔انگریز ہوںیا فوجی حکمران ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے نام بدل سکتے ہیںلیکن حکومت یا قیادت اسی جمہوریت کے سسٹم کے مطابق اسی غاصب طبقہ کے پاس رہتی چلی آرہی ہے۔جب تک اسلامی قائد اور دینی قیادت ملک کو نصیب نہیں ہوتی اس وقت تک یہ وقت کے فرعون عدل و انصاف کو کچلتے رہیں گے۔ اور ملوکیتی نظام ملک میں چلاتے رہیں گے ۔ان تمام حکمرانوں سے وضاحت طلب کر لینا نہائیت ضروری ہے۔کہ وہ ملت اسلامیہ کے چودہ کروڑ عوام کومطلع کریں کہ وہ سرکاری طور پر یزید کی پیروی کر وا رہے ہیں یا حضرت امام حسینؓ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ملت کو انہوں نے ایک ایسے المیہ اور اذیت ناک فتنہ سے دو چار کر رکھا ہے۔انکا دل و جان تو حضرت امام حسینؓ کی محبت اور ادب میں دھڑکتا ہے اور عملی زندگی سرکاری طور پریزیدکے ضابطہ حیات کی گذارنے پر ان حکمرانوں نے مجبور اور پابند کر دیاہوا ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ زندگی یزید کی گذاریں اور عاقبت حضرت امام حسینؓ کی مانگیں۔ان حکمرانوں نے مسلم امہ کے دینی نظریات کو معطل ، مفلوج اور مسترد کرکے امت سے دین بھی چھین لیا اور اسکی معاشیات بھی لوٹ لی۔ ان بد نصیبوں نے ملت کے پاس نہ دین چھوڑا اور نہ ہی دنیا ۔اب فطرت نے انکی زبان گونگی اور بطن سے جان چھین لی ہے۔ فطرت کی طرف سے ان کا یوم حساب اوراحتساب کا عمل جاری ہو چکا ہے۔
۴۶۔ جمہوریت کا طرز حکومت ان سات آٹھ ہزار ایسٹ انڈیا کمپنی کے کا لے انگریزوں کے لئے ان کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔یہ الیکشن جیت کر آئیں یا مارشل لا کی چھتری کے سائے تلے۔اقتدار سے پیوست رہنا ان کامقصد حیات ہوتا ہے ۔ شروع شروع میں پاکستانی عوام افواج پاکستان کو ملت کا نجات دہندہ اور ملک کا خیر خواہ تصور کرتے ہیں۔ لیکن وہ فوجی حکمران جلد ہی ان سیاستدانوں ،ان کی افسر شاہی، نوکر شاہی اور منصف شاہی اور ان کے رائج الوقت جمہوریت کے نظام اور سسٹم کے شکنجوں میں جکڑے جاتے ہیں ۔پھر وہ ظلم جو
سیاسی حکومتیں نہیں کر پا تیں وہ ملک کی تمام انتظا میہ ، عدلیہ اور اقتدار سے منسلک سیاستد ا ن ملکر ان فوجیو ں کے اقتدار کی تلوار سے دین کے خلاف ایسے معاشی اور معاشرتی قوانین یعنی اپنی مستورات کا اسمبلیو ں میں ایم این اے،ایم پی اے،سینیٹروں کے ممبران کے بے پناہ اضا فی کوٹے جاری کر کے ان اہم اداروں تک پہنچا دیتے ہیں۔، ان کی تنخواہوںکے اضافے، افسر شاہی،منصف شاہی کی تنخواہوں کے اضافے، بے حس ، بے رحم طریقوں سے سرکاری خزانہ سے بے شمار شاہانہ ان کے سرکاری اخراجات کے اضافے، ریٹائرڈ افسر شاہی کو تعلق کی بنیاد پر بار بار سرکاری اہم انتظا میہ کی ذمہ داریاں سونپنا،بیروز گاروں کی حق تلفیاں، سرکاری خزانہ کی لوٹ مار اور دوسر ی طرف ۹۹ فیصد مفلوک الحال نادار، اپاہج، بیوہ، یتیم،بوڑھے پنشنروں، کسانوں، مزدوروں، محنت کشوں ، ہنر مندوں اور بیروز گار خود کشیوں اور خود سوزیاں کرنے والے عوام پر لا تعداد نئے ظالمانہ ٹیکس کا نفاذ، ٹیکسو ں میں بے پناہ اضافو ں اور ان سے پیدا کردہ جان لیوا مہنگائی کی ذمہ داری ملک کے اقتدار میں گھسے ہوئے چند جرنیلوں کی بجائے تمام افواج پاکستان کے سر تھو نپ دی جاتی ہے جو ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ عوام کے دلوں میں اقتدار پر قابض چندفوجیوں کی ہوسِ اقتدار اور گمراہی کی وجہ سے تمام افواجِ پاکستان کے لئے نفرت اور حقارت کے انتقامی جذبات جنم لینے کے ذمہ دار یہی چند لوگ ہوتے ہیں ۔پہلے جرنل ضیا الحق صا حب کو سیاستدانوں کی اقتدار کی چپقلش کی آگ کا ایندھن بنایا گیا۔اب یہ جرنل مشرف صاحب کی تباہی کا انتظار کر رہے ہیں۔اس ملک کی بقا دینی قیادت اور دینی ضابطہ حیات میں مضمر ہے۔
۴۷۔ ملک میں قرآنی تعلیمات کو متعارف کروانے کے لئے قرآن پاک کا قو می زبان میں تر جمہ پرائمری سے لے کر پی ایچ ڈی تک اس کے فلسفہ اس کی حکمت ، اس کے ازلی ابدی فلاحی اصو لو ں ،اس کے معاشی اور معاشرتی آسمانی ضابطوں ، اس کے اعتدال و مساوات، اخوت و محبت،عفو و در گذر، دنیا کی بے ثباتی، انسانیت کے سا تھ حسن سلوک، انفرا دی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک کے آداب سے متعا ر ف کروانا۔امانت و دیانت او ر عدل و انصاف کے اسلامی نظام سے ملک و ملت کو تحفظ فراہم کرنا ایک دینی قیادت اور دینی قائد کا اولین فریضہ ہوتا ہے جو اسے ادا کرنا ہوتا ہے۔ عربی زبان پر چندعلما ء کرام کی اجارہ داری ہے۔انہوں نے دین کو مختلف مسلکوں اور عقیدوںمیں منقسم کر رکھا ہے۔ایسی کتابیںمرتب کر رکھی ہیں۔ جو فرقہ پرستی کو جنم دیتی اور قتل و غارت کا باعث بنتی چلی آرہی ہیں۔ یہ تمام دین کش کھیل ان حکمرانوں کی زیر نگرانی پرورش پاتا چلا آرہا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی کے دو تین سو سال کے بعد احادیث اکٹھی ہونی شروع ہوئیں ۔ جن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اور علماء کرام ان میں سے قلیل تعداد پر متفق ہیں۔اسی طرح مذہبی رہنماؤں کی کتابیں بھی جو ان ادوار میں لکھی گئیں وہ کس حد تک درست ہیں۔ ان کے لئے تمام عقائد سے منسلک علماء کرام کو ایک مرکز پر بٹھا کر ان کی رہنمائی میں ایسی کتا بو ں کو تلف کر دینا ضروری ہے۔ جو موجب فساد بنتی ہیں ۔ خدا کے کلام کے علاوہ جس کی ذمہ دا ر ی اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ نا معلوم ان کتابوں میں کہاںکہاں کیسے کیسے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں ۔ملت اس فساد سے بچ جائیگی۔
۴۸۔ قرآن پاک کو تو سمجھنا بڑا مشکل کا م ہے۔کلمہ شریف اور نماز شریف کے معنی بھی پوری ملت کی سمجھ میں نہیں آسکے ۔ملت روایات کی عبا د ت اور دین کی دوری کی سزا میں غرق ہوتی جا رہی ہے۔ آؤ! قرآن پاک کا اپنی قومی زبان میں ترجمہ کریں۔اسے تعلیمی نظام کا حصہ
بنائیں اور اس کی روح کو سمجھیں ۔اس میں غور کریں،فکر سے کام لیں ۔ دستور مقدس کے فطرتی اصولوں کی پیروی کریں ۔ انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک خیر اور بھلائی کے تعلیمی چشموں سے مسلم امہ کی نسلوںکو سیراب کریں۔ اسلامی تشخص اور ملی کرد ار بحال کریں۔جمہوریت کی فرعونی تعلیم و تربیت سے نجات حاصل کرنے کے لئے اسلامی قیادت کے قیام کا عمل بروئے کار لائیں۔
۱۔ جمہوریت کا طرز حکومت ان تینوں نظریات کے قوانین اور ضوابط کی روشنی میں تیار ہوتا ہے۔اس کے بعد سرکاری طور پر مملکت پاکستان میں ان کا نفاذ عمل میں لایا جاتا ہے۔ہم جمہوریت کے ان تینوں نظریات کی طبقاتی تعلیم،اس کا طبقا تی تعلیمی نصاب،اس کے طبقاتی تعلیمی ادارے ہمہ وقت ملک کے تعلیمی اداروں سے نسل در نسل طبقاتی معاشرے کی نشوو نما اور تربیت جاری ساری رکھتے چلے آ رہے ہیں۔ جس سے ہند و ازم کے نظریات کا طبقاتی معاشرہ براہمن اور شودر تیار ہوتا جاتا ہے۔ ملک کا معاشی نظام چلانے کیلئے یہودیوں کے دانشوروں کے نظر یا ت پر مشتمل سودی معاشی نظام کے تربیت یافتہ افراد تیار ہوتے ہیں۔ 1857 ء کے ایکٹ کے مطابق جمہوریت کے نظریات کے قوانین و ضوابط کو سرکاری طور پر چلا نے کے لئے انتظا میہ اور عدلیہ کی افسر شاہی ،نوکر شاہی اور منصف شاہی کے طبقا تی ارکان تیار کئے جاتے ہیں۔ جمہوریت کا مذہب ان تین نظریات پر مشتمل ہے ۔ جس کی وجہ سے پاکستانی مسلم امہ معاشی ،معاشرتی ،اخلاقی اور روحانی انارکی کا شکار ہو چکی ہے۔ان تباہ کن حالات اور اس جمہوریت کے المیہ سے اسلامی قیادت اور صا لح قائد ہی نجات دلا سکتا ہے۔
۲۔ یہاںیہ بات واضح کرنا اشد ضروری ہے کہ جمہوریت کی سرکاری بالا دستی اسلام کے شورائی نظام، اسلام کی دینی تعلیمات، اسلام کے معاشی نظام، اسلام کے معا شرتی نظام اور اسلام کے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کے نظریات کو نگلتی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے جمہوریت کے نظام کو چلانے والی یہ سرکاری مشینری ملکی حکمرانوں اور سیاستدانوں کے اعلیٰ طبقہ سے ملکر ملکی معیشت ،ملکی دولت ،ملکی وسائل، ملکی خزانہ کرپشن کے ذریعہ اپنی اپنی ذاتی جاگیروں، ملکیتوں، محلو ں اور طبقہ وائز سرکار ی فرعونی عا لیشان بلڈنگوں،دفتروں،سرکاری رہائش گاہوں، سرکا ری کلبوں، سرکا ر ی ریسٹ ہاؤسوں،سرکاری ڈیکوریشنوں، سرکاری انگنت گاڑیو ں ،لا تعداد ٹیلیفو نوں، سرکار ی محافظوں،ملازموں اس کے علاوہ درجہ وائز طبقاتی شاہانہ تنخواہوں، شاہی سہولتوں کے خود کار عدل کش کرپٹ نظام کے تحت تقسیم ہوتا جاتا ہے۔یہ غاصب حکمران جنکی آبیاری جمہوریت کرتی ہے۔وہ کیسے اس نظام اور سسٹم کو ختم کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔دین طبقاتی جمہوریت کے سیاسی اداروںاور طبقاتی تعلیمی اداروں کے رشوت خور ،کرپٹ،عدل کش دانشوروں کا نام نہیں۔دینی درسگاہیںاعتدال و مساوات،امانت و دیانت،عدل و انصاف،اخوت و محبت ، ایثارو نثار اور ادب و خدمت سے سرشار معاشرہ تیار کرتا ہے۔ان بنیادی خوبیوں اور خصوصیات کی بنیاد پر اہل بصیرت افراد کی سلیکشن کرکے انکو ملکی ،ملی ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔انکو گورنر کا فرض سونپ دیا جائے یاچرواہے کا ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔انکو بھی ایک عام فرد کی طرح سادہ وسلیس اور مختصرضروریات بیت المال سے مہیاہوتی ہیں جس سے وہ گذر اوقات کرتے ہیں۔اسکے بعد دین کے کلچر اور جمہوریت کے کلچر کی وضاحت کی ضرورت نہیں رہتی۔یا اللہ ہمیں دین کی قندیلیں روشن کرنے کی توفیق عطا فرما۔امین ۔
۳۔ اس کے علاوہ درجہ وار یہ تمام ملت اسلامیہ کے ملک میں پھیلے ہوئے یہ سرکاری ملازمین، عوام کے نوکر، خادم سرکاری فرائض ادا
کرنے کی بجائے سرکاری بے لگام دہشت گرد بن چکے ہیں۔ عوام الناس کی خدمت کرنے کی بجائے سرکاری بالا دستی اور اقتدار کی نوک پر رشوت، کمیشن، کرپشن کو وصول کر نے کے ناگز یر پھندے رائج کر چکے ہیں ۔سائل کو نا گہانی اذیتوں میں مبتلا کرنا انکی تربیت کا حصہ ہوتا ہے۔ پورا معاشرہ اس جان لیوا معاشی اور معا شر تی کینسر میں مبتلا ہو چکا ہے۔اس جمہوریت کے باطل نظریات کی سرکاری بالا دستی ا ور اس کی سرکاری اطاعت میں اسلامی نظریات کچلے جا رہے ہیں۔ ملت ایک ایسے المیہ میں مبتلا کر دی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے چودہ کروڑملت اسلامیہ کے فرزندان نہ اسلامی نظر یا ت کا تحفظ کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسے بچا سکتے ہیں۔ ان حا لات و واقعات اور ملک میںرائج نظام اور سسٹم کی وجہ سے اسلامی قیادت کبھی بھی ابھر نہیںسکتی ۔اور نہ ہی پاکستان میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم ہو سکتی ہے۔ اس ملک و ملت کی بقا اسلامی قیادت اور مجلس شورا کے نظام اور اسلامی نظریات میں مضمر ہے۔
۴۔ افواج پاکستان اور ملت اسلامیہ کے چودہ کروڑ فرزندان سے واضح بات کرنا نہائیت ضروری سمجھتا ہوں۔اس بات کو غور سے سن لو۔ کہ جمہوریت کا بے دین نظام اور اس کے بے دین حکمران نزع کے عالم میں ہیں۔ ان کی دین کے ساتھ منافقت عبرتنا ک سانحہ سے دوچار ہوچکی ہے۔اس وقت ہمارا سرکاری مذہبی نصاب عیسائیت کے دانشوروں کا تخلیق شدہ جمہوری نظام۔ یہود یت کے سکالروں کا سودی معاشی نظام۔ہندو ازم کے مدبروں کاطبقاتی نظام۔ ہمار اتعلیمی نصاب ان تینوں نظریات کا مکسچر ہے۔ہمارا قومی تشخص ان تینوں نظریات کی تعلیم و تربیت سے تیار کیا جا رہاہے ۔ وہ مکمل غیر اسلامی ہے۔ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے ۔اس وقت سے لے کر آج تک وہ غیر اسلامی نظر یات کے وزیر ،مشیر،سفیر،وزیر اعلیٰ، گورنر،وزیر اعظم اور صدور تیار ہوتے چلے آرہے ہیں ۔ اس کے علاوہ انتظامیہ اور عدلیہ کی تمام مشینری انہی تعلیمی اداروں کی پیداوار ہیں ۔ یہ باطل غاصب اور ظالم بے دین نظریات،اس کے نظام اور سسٹم کے ا یجنٹ تیار کرتے ہیں۔ جنہوں نے ملکی سطح پر اسلام کے روشن و منور نظریات کے چراغوں کو بجھا کر جمہو ر یت کے نظریات کے سیاہ گھپ اندھیروں میں ملت اسلا میہ کے چودہ کروڑ فرزندان کو جھونک رکھا ہے۔یا اللہ۔ملت کو ان سے اور انکے نظام اور سسٹم کی گرفت سے نجات عطا فرما۔امین
۵۔ یہ پاکستان کے مسلمانوں اور پوری انسانیت کا ایک عظیم المیہ ہے۔ جس کی وجہ سے مسلم امہ کی نسلیں دین کے نظریات،دین کی تعلیمات۔ دین کے اخلاق و کردار۔ دین کے روحانی ارتقا اور حضور نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کی تعلیم و تربیت سے محروم ہوتی جا رہی ہیں۔ جن کی وجہ سے ملت کی نظریاتی عمار ت ریزہ ریزہ ہو کر بکھرتی جا رہی ہے۔ جس ملک کے سیاستدان اور حکمران ظالم ، غاصب ،رہزن اور چور ہوں۔ جس ملک کی افسر شاہی ، منصف شاہی اور نوکر شاہی کے پچانوے فیصد عملہ صدر مملکت کی نظر میں کرپٹ اور رشو ت خور ہوں۔ اور وہ نہ اس نظام کو اور نہ ہی اس کرپشن،رشوت،سفارش کو روکنے کے قابل ہوں۔اور یہ طبقہ ملک کی تمام دولت، تمام خزانہ،تمام وسائل،تمام مصنوعا ت پر اقتدار کی نوک پر غاصبانہ قبضہ کر لیں۔ اس کے علاوہ کسان ،محنت کش، ہنرمند، بیوہ ، یتیم ، اپاہج، پینشنر ،بوڑھوں،بیروز گاروں اور غریب بے بس عوام سے ان گنت ٹیکس،لا تعداد ریٹوں میں اضافوں اورمہنگائی کی سرنجوں سے معاشی خون چوس لیں۔نہ یہ ان کے پاس دین چھوڑیں اور نہ ہی زندگی کی بنیادی ضروریات۔ طبقاتی برتری اور حکومتی بالا دستی کی فرعونی طاقت سے اعتدال و مساوات
اورعدل و انصا ف کو کچلتے جائیں ۔ملک میں معاشی ،معاشرتی اور دینی نظریات کا قتال جا ر ی رہے۔ جمہو ر یت کا طرز حکومت پہلے مشرقی پاکستان نگل چکا ہے۔ملکی اتحاد 78 سیاسی جماعتو ںمیں بکھر چکا ہے۔ دین دار انسان اور دینی نظر یا ت مسجد کے پنجروں میں مقید ہوچکے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا دینی نظریہ جمہو ر یت کے ایجنٹ نگلتے جا رہے ہیں۔ہماری ملی زندگی دین کے خلاف کافرانہ، منا فقا نہ تہذیب و تمدن میں مکمل طور پر ڈھلتی جا رہی ہے۔ہمارا دینی ملی تشخص نایاب اور نا پید ہوتا جا رہا ہے۔ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی دین اور دینی نظریات کے خلاف 1947 ء سے لے کر آج تک بد قماش شرابی ،زانی،ظالموں،غاصبوں ، سمگلر و ں، بلیکیوں، معاشی قاتلوں، جاگیردا روں، سرمایہ داروں، سیاستدانوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔ جمہور یت کے دین کش مذہب کے نظریات کے اسمبلیوں کے ممبروں، وزیروں، مشیروں، وزیر اعلٰی،وزیر اعظموں، گورنروں، صدروں اور ملک کو دو لخت کرنے والے عیاش رہزنوں نے ملک میں عبرتناک طوفان مچا رکھا ہے۔
۶۔ ہم چودہ کروڑ مسلمان ا للہ تعالیٰ کی عبادت دین کی روشنی میں اور اطاعت و اتباع اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی کرتے ہیں۔لیکن ملک میں جمہور یت کے نظریات کا مذہب، سرکاری طور پر نافذالعمل ہے۔اس نظام کو چلانے کیلئے سکولز، کالجز، یونیو رسٹیوں کے ذریعے جمہوریت کے نظریات پر مشتمل تعلیمی نصا ب کی روشنی میں عدلیہ کے دانشور، انتظا میہ کے سکالر، معاشیات کے مدبر،بے حیائی کے میڈیا کے مفکر، جو جمہوریت کے نظریات کی روشنی میں اسلامی تہذیب و تمدن اور معاشرہ تیار کرتے ۔ اور پروان چڑھاتے چلے آرہے ہیں۔ انہوں نے سرکاری سرپرستی میں چودہ کروڑ فرزند ا ن اسلام کوجمہوریت کے فرعونی نظریات اور اسلا می نظریات کی جنگ میں جھونک رکھا ہے۔جمہوریت کے نظریات کو سرکا ر ی بالا دستی حاصل ہونے کی وجہ سے اسلامی اقدار،اسلامی معاشرہ،اسلامی طرز حیات اور اسلامی نظریات مفلوج اور مفقود ہو چکے ہیں۔علمی اور عملی طور پر ہم غیر مسلم نظر یات پر مشتمل جمہوریت کے نصاب کا حصہ بن چکے ہیں۔اہل پاکستان جمہوریت کے کینسر میں مبتلا ہو چکے ہیں۔جب ان کی انفرادی اوراجتماعی زندگی کا تعلیمی نصاب ، تعلیم و تربیت، تعلیمی ادارے اور اساتذہ صاحبان ان کے باطل نظام اور غاصب سسٹم کا حصہ بن جائیں۔ تمام امت مسلمہ سرکاری طور پر تابع فرمان جمہوریت ہو تو اسلام کیسا؟ اسلام کی روح کو مسخ کرنے والی یہ بے دین ،دین کش جمہوریت کے نظام کو چلانے والی تمام سرکاری مشینری مسلمان کیسے کہلا سکتی ہے؟یہ کس اسلام کو مانتی ہے؟ان کا کس اسلام سے تعلق ہے؟اس اسلام سے جسے محمد عربی ﷺ نے پھیلایا ،یا ان کا تعلق جمہوریت پر مشتمل ضابطہ اسلام ہے؟۔ جسے انہوں نے ملک میںنافذ العمل کر رکھا ہے۔یہ تمام حالات و واقعات،یہ جبر، یہ ظلم، یہ کفر،یہ منافقت ،یہ دھوکہ،یہ فراڈ یہ ملی زبوں حالی اور یہ معاشی مقتولہ عوام دینی صداقت اور دینی قیادت کے متلاشی ہیں ۔ جو ملک میں آئے اور اسلام کو نافذ کر دے۔یا اللہ! تو مسلم امہ کو یہ دن بھی دکھا۔آمین۔
۷۔ یاد رکھو!ملت کے چودہ کروڑ انسانوں کا شعور، دینی اور دنیاوی ارتقائی عمل سے محروم کر دیا گیاہے۔ ان کی روزی ان پر تنگ کردی گئی ہے۔ ان پر زندہ رہنے کے تمام دروازے بند کئے جا رہے ہیں۔ ان پرجمہوریت کی جہالت نا فذ کر دی گئی ہے۔ان پر ٹیکسوں کاظلم کی حد تک بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ ان کو بجلی، گیس،ٹیلیفون اور بے شمار ٹیکسوں کے کینسر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ان کو روز مرہ کھا نے پینے کی بنیادی
ضرورتوں کی قیمتوں کے اضافوں سے نڈھال کر دیا گیا ہے ۔ ان کو بنکوں کی قطاروں میں یہ ٹیکس کی رقوم جمع کروانے کے عذاب میں مبتلا کر دیاگیا ہے۔ان کو خوراک جیسی بنیادی ضرورتوں کے حصول میں بے بس کردیا گیا ہے۔ ان کے لئے ہر قسم کا عدل و انصاف کا دروازہ بند کر دیاگیا ہے۔انہوں نے اعتدال و مسا وات کو معاشرے سے ختم کر دیا ہے۔پوری ملت کے انسانی حقوق کو پامال کر دیا گیاہے۔ملک میں معاشی اور معاشرتی انارکی پھیل چکی ہے۔
۱۰۔ صحراؤں، بیابانوں،میدانوں اور پہاڑوں میں بسنے والے کروڑوں کسانوں، محنت کشوںاور عوام ا لناس کے لئے پکڈندیاں آج بھی صدیوں پہلے کی موجود ہیں۔ آج بھی ان کی اور ان کے جانوروں کی زندگیاں بے سرو سامان کی حالت میں ریگستانوں ، صحراؤں ، بیابانوں،میدانوں اور پہاڑو ں میںپانی کی بوند بوند کو ترستی ہیں۔آج بھی خشک سالی کے دوران سو رج کی تپش اور صحراؤ ں کی تپتی ریت ان کی زندگیو ں کو نگلتی جاتی ہے۔آج بھی ان کے گھروندے بجلی ،پانی، گیس کی بنیادی ضرور توں سے محروم ۔ آج بھی ان کے علاقے سکولوں،کالجوں اور ہر قسم کے تعلیمی ادارو ں سے محروم۔کارخانوں ،ملوں،فیکٹریو ں سے محروم،ان جیسے فرعو نی محلوں اور ان جیسی ہر سہولت سے محروم،کاروںکوٹھیوں سے محروم ،موٹر وے، ہائی انڈس وے اور بڑی بڑی صا ف ستھری اور کشادہ سڑکوں سے محروم ، پجارو، مرسڈیزاور لینڈ کروزروں سے محروم۔ ہوائی اڈوں سے محروم، ہوائی جہازوں سے محرو م ، بحری جہازوں سے محروم، عوام ا لناس ان کو دور سے دیکھ سکتے ہیں ان کو استعمال نہیں کر سکتے۔ ملک کی دولت سے محروم،ملک کے خزانے سے محروم ،ملک کے وسائل سے محروم جب کہ یہ سب کچھ ان کی ملکیت ہے۔ اور وہ ان کے حقیقی وارث ہیں۔یہ کون انسانی شکل میں درندہ صفات وحشی ہیں؟جو آدھا ملک نگل چکے ہیں اور باقی کو انارکی کی آگ میں دھکیل رہے ہیں۔یہ کون ظالم ہیں ؟جو اعتدال و مساو ا ت ملک سے کچلتے جا رہے ہیں۔یہ کون غاصب ہیں جو ملک میں عدل و انصاف کو روند تے چلے جا رہے ہیں۔یہ کون فرعونی،یزیدی نسل کے ایجنٹ ہیں جو اسلامی نظریات کو روند تے جا رہے ہیں۔یہ کون دینی رہزن ہیں جو اسلامی قیادت کے راستہ میں حائل ہو چکے ہیں۔
۸۔ یاد رکھو!صاحب درد،صاحب بصیرت کو صاحب حال بنا دیا جاتا ہے۔ ان کے آنسوؤں اور دنیا کو طلب کرنے والے انسانوں کے آنسوؤں کی منزلیں جدا ہو جاتی ہیں۔ یہ صاحب درد انسانوں کے آنسوؤں کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ کہ وہ غافل کو جگاتے اور بیداری کی نصیحت کا فریضہ ادا کرتے رہیں ۔اور جاہل کو جہا لت کی دنیا سے نکلنے کا علم سکھاتے رہتے ہیں۔وہ غریبوں ،مسکینوں اور بے بسوں کے معاون۔ بیواؤں اور یتیموں، اپا ہجوں کے مدد گار بن جاتے ہیں۔ ان کے دل درد کے مخزن بن جاتے ہیں۔ ان کی زبانیں درد کے خزانہ کو الفاظ کی شکل میں اگلتی رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے الفاظ کے چراغوں کو ہر دور میں روشن و منور کرکے انسا نیت کی فلاح کا راستہ بنا دیتا ہے۔اگرکوئی سر براہ مملکت،کوئی ملکی رہنما یا کوئی حکمران اپنی بداعمالیوں سے حقائق اور سچائی سے منہ موڑ لے یا دینی نظریات کی بالا دستی میں رکاوٹ بنے یا ان کو مسخ یا ان کو ختم کردے ۔تووقت کے درویش یا فقیر کے ماننے والے کا خاموش رہنا خود کشی سے بھی زیادہ مہلک اور ایک ناقابل معافی گناہ اور جرم ہوتا ہے۔ حکمرانوںکی بد اعمالی کو روکنے کا وہ پورا ذمہ دار ہوتا ہے۔اگر وہ ایسے فرائض ادا نہیں کرتا تووہ حق ، سچ اور دینی نظریات کے قتال کرنے والے افراد کا ہمنوااور خود بھی دین کا قاتل ہوتا ہے۔ظلم پر خاموشی ظلم کی پرورش کے متر اد ف ہوتی ہے۔ اہل
نسبت درویشوں،فقیروں،ولیوں کا یہ طیب فریضہ ہوتا ہے کہ وہ حکمرا نو ں اور رعایا کو تباہی سے بچائیں۔اللہ تعالیٰ ان صا حب بصیرت انسانوں کو ان فرائض کو ادا کرنے کی توفیق اور ہمت عطا فرماویں۔امین۔
۹۔ یاد رکھو! یہ ملک ا سلا می نظریات کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا ۔ یہ ملک اسلام کی سلامتی کا قلعہ ہے۔ یہ ملک انسا نیت کی فلاح کا محور ہے۔ یہ ملک اخو ت و محبت کی درسگاہ ہے۔ یہ ملک بھولے بھٹکوں کی رہنمائی کا مرکز ہے۔ یہ ملک انسا نیت کے دکھوں کی دوا ہے ۔ یہ ملک خدمت خلق کی آ ماجگاہ ہے۔ یہ ملک انسانیت کی روحانی بیماریوں کی شفاہے۔ یہ ملک رشد و ہدا ئیت کا چشمہ ہے۔ یہ ملک اعتدا ل و مساوات کا مسکن ہے۔یہ ملک عدل و انصاف کا منبع ہے۔ یہ ملک گلوبل لا ئف میں نور ہدائیت کا چراغَ ہے۔ یہ ملک ٹھنڈی میٹھی ہواؤںاور فضاؤں کا وارث ہے جہاں انسانیت سکھ کا سانس لے سکتی ہے۔ یہ ملک رحمت اللعالمین ﷺ کی رحمتوں کا خزینہ ہے۔ گو اس وقت ملک و ملت اسلام کے منافی جمہوریت کے باطل، غا صب نظریا ت پر مشتمل قوانین و ضوابط کے اندھیر وں میںگم ہے۔ جبکہ اس ملک کی منزل کا تعین دین کے شورائی نظام میں مضمر ہے۔ اس ملک میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم ہونی ہے۔ جب تک اس ملک کی قیادت دین کی روشنی میں اللہ کے احکام اور اس کے دستور مقدس کے نظام اور ضابطہ حیات کونافذ کرنے والے قائد کے ہاتھ میں نہیں آتی۔اس وقت تک فرعون اور یزید کی جہالت،نا انصا فی،خود غرضی،مادہ پرستی، اقتدار پرستی پر مشتمل جمہوریت کاگھنا ؤنا کھیل اور نفرتوں کا جہنم اس ملک میں سلگتا رہے گا۔ ،ظلم و جبر اور قتل و غارت کا کھیل اس ملک اور پوری دنیا میں اس وقت تک جاری رہے گا۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی حاکمیت دنیا میں قائم نہیں ہو جاتی۔یا اللہ اپنی مخلوق پر رحم فرما ۔امین
۱۰۔ سن لو! دنیا کی بے ثباتی اور خوف خدا کے طیب جذبوں کا درس عام کرنا ہوگا۔ دنیا کی دولت اور متاع ارضی کے انبار جمع کرنے والوںکو دین محمدیﷺ کا جام عدل و خیر کا گھونٹ پلانا ہوگا۔ان کو بھولا سبق یاد کرانا ہوگا۔ بھولے بھٹکے اور گمراہ حکمرانوں اور عوام الناس کو خیر اور شر،نیکی اور بدی، بھلائی اور برائی،بیماری اور شفا، امیری اور غریبی، زندگی اور موت اور اس کے بعد انجام بالخیر سے تعارف کروانا ہوگا۔کون کب تک اور کتنی دیر اس جہا ں میں زندہ رہے گا۔اللہ کے باغی کی موت مرنے سے توبہ کرلو۔ اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچنے سے قبل اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قبول کر لو۔ دینی قیادت کا نظام قائم کر لو۔ اس جہان رنگ و بو کو الوداع کہنے سے پہلے پوری انسانیت کی اخلاقی اور روحانی رہنمائی کا فریضہ ادا کرتے جاؤ۔خیر کی خیرات عام کرو۔ انسا نیت میں اخوت و محبت کی مہک پھیلتی جائیگی۔ا س عدل کش، باطل ، بے دین جمہوریت کے نظریات کی کتاب کا ورق الٹ دو۔ دینی نظریات کی حکمرانی قائم کر جاؤ۔نجات پاجاؤ گے۔ موت کے عمل کو کوئی روک نہیں سکتا۔دین سے دوری والی موت سے استغفار کر لو۔خیر کے داعی بن جاؤ،فلاح پا جاؤگے۔ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قبول کر لو۔ قربت رسولﷺ نصیب ہوگی۔ یاد رکھو! اسی ملت کو ہی دنیا کی رہبر و رہنمائی اور انسانیت کی خدمت ،ادب اور انسانیت کے دلوں کو تسخیر کر نے کے پاکیزہ اور روحانی فرائض ادا کرنے ہیں۔یا اللہ مسلم امہ کے فرزندان کو بیداری عطا فرما اور اس مشن کی تکمیل کی توفیق بھی بخش۔امین ۔